وندے ماترم کا بائیکاٹ، پولیس طلباء تصادم

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی مقامی یونیورسٹی میں کرکٹ میچ کے دوران وندے ماترم کے بائیکاٹ پر پولیس اور کھلاڑیوں کے درمیان تصادم کے بعد ’کشمیر پریمئیر لیگ‘ کا میچ روک دیا گیا۔

کشمیر یونیورسٹی میں طلباء کی جانب سے بھارتی قومی ترانے کا بائیکاٹ کرنے پر طلباء اور انتظامیہ کے درمیان کشیدیگی کے بعد پیر کو فوجی سرپرستی میں ہونے والے کرکٹ میچ کے دوران پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔

واضح رہے کہ بھارتی فوج کے تعاون سے منعقد کیے جارہے ’کشمیر پریمیئر لیگ ‘مقابلے کا یہ افتتاحی میچ تھا جو تصادم کی وجہ سے روک دیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فوج کے زیرِاہتمام کھیلے جا رہے کرکٹ میچ کے دوران ایک کھلاڑی نے جب چھکا مارا تو گیند وائس چانسلر کے چیمبر کی جانب گئی، جس پر وہاں تعینات وائس چانسلر کے محافظ دستے نے اعتراض کیا اور گیند ضبط کرلی۔

جب کھلاڑیوں نے دیوار پھاند کر گیند حاصل کرنا چاہی تو پولیس اور کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔

کھلاڑیوں کا الزام ہے کہ وائس چانسلر کے محافظوں نے گیند دینے سے انکار کیا اور فائرنگ کر کے کھیل کو روکا، جس سے طلبا مشتعل ہوگئے۔

مظاہروں پر قابو پانے کے لیے مسلح پولیس دستوں نے مختصر وقت کے لیے کیمپس کا محاصرہ کیا جس کے بعد وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد خود میدان میں آئے اور ناراض کھلاڑیوں سے بات چیت کی۔

یونیورسٹی کے چیف پراکٹر پروفیسر محمد افضل زرگر نے بی بی سی کو بتایا ’اس معاملہ پر سمجھوتہ ہوچکا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔‘

کشمیر یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حکام نے طلباء کی تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم ثقافتی سرگرمیوں اور کھیلوں کے مقابلے حکومت اور فوج منعقد کراتی رہتی ہیں۔

یونیورسٹی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی پر پروفیسر زرگر کہتے ہیں ’یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ یہاں پولیس کی ایک کمپنی سینتیس سال سے تعینات ہے۔لیکن طلبا کے ساتھ ان کا سلوک اچھا ہوتا ہے۔‘

گزشتہ روز ریاست کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا جب یونیورسٹی میں ایک سیمینار کا افتتاح کے لیے آئے تو بھارت کا قومی ترانہ بجانے پر طلباء کھڑے نہیں ہوئے بلکہ اپنی نشتوں پر ہی بیٹھے رہے۔

اس پر گورنر نے وائس چانسلر کو ہدایات دیں کہ قومی ترانہ کی اس توہین کے پیچھے محرکات کی تفتیش کی جائے۔

پروفیسر زرگر کہتے ہیں ’قومی ترانے کے تئیں جذبات طلباء کا ذاتی فیصلہ ہے، ہم کسی کو زبرستی کھڑا ہونے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔‘

اسی بارے میں