بھارت:خلیل چشتی کو پاسپورٹ واپس مل گیا

Image caption ڈاکٹر چشتی کو یکم نومبر دو ہزار بارہ سے قبل بھارت واپس آنا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے عارضی طور پر پاکستان جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد مقدمۂ قتل میں ضمانت پر رہائی پانے والے معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کو ان کا پاسپورٹ واپس کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر خلیل نے اجمیر میں مقامی عدالت میں پاسپورٹ کے حصول کی درخواست دائر کی تھی جس پر پیر کو عدالت نے تقریباً دو دہائیوں کے بعد خلیل چشتی کو ان کا پاکستانی پاسپورٹ واپس کر دیا۔

پاسپورٹ ملنے کے بعد ڈاکٹر خلیل دلّی جا رہے ہیں جہاں سے وہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے کراچی جائیں گے۔

انہیں قتل کے کیس میں سزا کے خلاف اپنی اپیل کی سماعت سے قبل بھارت واپس لوٹنا ہوگا۔سپریم کورٹ ان کی اپیل کی سماعت بیس نومبر سے کرے گی۔

ڈاکٹر خلیل کے بھائی جمیل چشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے بھائی بہت خوش ہیں کہ وہ ایک طویل عرصے بعد پاکستان میں اپنے اہلِخانہ کے پاس جا رہے ہیں‘۔

ان کے خاندانی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر خلیل کے زرِ ضمانت کے طور پر بھارتی سپریم کورٹ میں پانچ لاکھ روپے جمع کروا دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ڈاکٹر چشتی کو یکم نومبر دو ہزار بارہ سے قبل بھارت واپس آنے کو کہا ہے۔

انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ کراچی پہنچنے پر وہ بھارتی قونصل خانے میں اپنا پاسپورٹ جمع کروائیں۔

ڈاکٹر چشتی کو قتل کے ایک بیس سال پرانے کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اجمیر میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر چشتی تقسیمِ برصغیر کے وقت پاکستان چلے گئے تھے جبکہ ان کے والدین اور بہن بھائی اجمیر میں ہی رہ گئے تھے۔ وہ انیس سو بانوے میں اپنی والدہ سےملنے بھارت کے شہر اجمیر آئے تھے اور تب سے ہی قتل کے ایک معاملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کافی عرصے سے ڈاکٹر چشتی کو پاکستان واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو خط لکھ کر یہ اپیل کی تھی کہ انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا جائے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اپریل میں وزیر اعظم سے ڈاکٹر چشتی کی رہائی کی وکالت کی تھی۔

اسی بارے میں