سربجیت کی رہائی کے لیے صدر زرداری سے اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی سزا معاف کر دیں۔

یہ اپیل انہوں نے بھارت سے رہا ہونے والے معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کے توسط سے ایک خط کے ذریعے صدر پاکستان سے کی ہے۔

ڈاکٹر خلیل چشتی کی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد بھارتی جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد آج منگل کو کراچی آمد متوقع ہے۔

انہیں اجمیر میں اپنے ایک رشتے دار کے یہاں ایک قتل کے معالے میں ایک مقامی عدالت نے قصوروار قرار دیا تھا اور وہ گزشتہ بیس برس سے اپنے وطن پاکستان نہیں جا سکے تھے۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یکم نومبر کو بھارت واپس لوٹیں گے ۔

جسٹس کاٹجو نے صدر زرداری کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایک بھارتی شہری سربجیت سنگھ گزشتہ اکیس برس سے ایک پاکستانی جیل میں قید ہیں۔

انہیں سنہ انیس سو نوے میں لاہور میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ملوث ہونے کا قصور وار پایا گیا تھا۔

اس واقعے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور سربجیت کو اس واقعے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

جسٹس کاٹجو نے لکھا ہے کہ اس واقعے کے اصل گواہ شوکت سلیم اپنے بیان سے منحرف ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا بیان پولیس کے دباؤ میں دیا تھا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ’سربجیت کے سر پر اکیس برس سے موت کی تلوار لٹکتی رہی ہے اور یہ کسی کو بھی پاگل کرنے کے کے لیے کافی ہے۔‘

جسٹس کاٹجو نے لکھا ہے کہ صدر پاکستان نے میری اپیل پر اپنی رحمدلی کا اظہار کرتے ہوئے گوپال داس کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

اسی طرح بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی ڈاکٹر چشتی کو جیل سے رہا کر کے انہیں پاکستان جانے کی اجازت دی۔

’میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ انسانیت کے نام پر آپ سربجیت سنگھ کو رہا کرنے اور انہیں واپس بھارت بھیجنے کا حکم دیں۔‘

جسٹس کاٹجو نے اپنے خط کا اختتام فیض کی نظم کے ان دو مصروں سے کیا ہے۔

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو

کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

اسی بارے میں