داؤد ابراہیم کے ساتھیوں پر امریکی پابندیاں

داؤد ابراہیم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چھوٹا شکیل اور ٹائیگر میمن داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی ہیں

امریکہ نے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے دو ساتھیوں چھوٹا شکیل اور ابراہیم ٹائیگر میمن پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

ان دونوں پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی’فارن ایکسچینج ریگولیٹری اتھارٹی‘ یعنی بیرونی ممالک سے آنے جانے والے رقوم پر نظر رکھنے والے محکمے کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کا مطلب ہے کہ کوئی بھی امریکی شہری ان دونوں افراد کے ساتھ کسی طرح کا تجارتی رشتہ نہیں رکھ سکتا اور اگر امریکہ میں ان دونوں کے نام پر کوئی بھی جائیداد ہے تو وہ ضبط کر لی جائے گی۔

داؤد ابراہیم کی کمپنی کو ’ڈی‘ کمپنی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایک بیان میں امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ممبئی میں پیدا ہوئے ستاون سالہ چھوٹا شکیل ’ڈی‘ کمپنی کے سربراہ داؤد ابراہیم کے داہنے ہاتھ ہیں اور کمپنی کی دیگر ’مجرمانہ‘ اور ’شدت پسندانہ‘ کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ باون سالہ ابراہیم ٹائيگر میمن داؤد ابراہیم کے دوسرے اہم قریبی دوست ہیں جو جنوبی ایشیاء میں ڈی کمپنی کے کاروبار کو چلاتےہیں اور وہ 1993 کے ممبئی حملوں کے معاملے میں بھارت کو مطلوب ہیں۔ واضح رہے کہ ان دھماکوں میں دو سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کے فارن ایکسچنج ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایڈم زبین کا کہنا ہے ’امریکہ کی وزارت خزانہ جنوبی ایشیاء میں جرائم اور شدت پسندی کے رشتے پر گہری نظر رکھتی ہے اور ڈی کمپنی سے متعلق ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ دنیا میں سب سے بدنام جرائم کمپنی کے خلاف ہے‘۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم اور ان کی کمپنی اسّی کی دہائی سے عالمی سطح پر منشیات کی سمگلنگ کا کام کر رہی ہے۔ محکمے کے مطابق وہ جنوبی اور مغربی ایشیا اور افریقہ کے راستے یہ کام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ انٹرپول نے پہلے ہی چھوٹا شکیل اور ٹائیگر میمن کے خلاف وارنٹ یعنی ’ریڈ کارنر نوٹس‘ جاری کر رکھے ہیں۔