کشمیر:’حریت کانفرنس الیکشن لڑے گی؟‘

میرواعظ عمر فاروق تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الیکشن میں شرکت یا عدم شرکت کا معاملہ حریت کانفرنس کے وجود کی بیس سالہ تاریخ کا اہم جز رہا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک آزاد رکن اسمبلی نے بدھ کو دعویٰ کیا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کا ایک دھڑ ا بھارتی حکومت کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں شرکت کے لیے خفیہ تیاریوں میں مصروف ہے۔

ایم ایل اے عبدالرشید شیخ نے شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقہ میں منگل کو حریت کانفرنس (ع) کے زیرِ اہتمام عوامی جلسے کی ویڈیو ریکارڈنگ پیش کرکے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں حریت رہنماؤں پروفیسر عبدالغنی بٹ اور بلال غنی لون کے ہمراہ کئی ہند نواز سیاستدان اور سیای ورکر موجود تھے۔

مسٹر رشید کا کہنا ہے کہ اگر حریت کانفرنس الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکی ہے، تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا ’میں تو ان کی حمایت کروں گا، لیکن خفیہ تیاریاں کرنا شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری ہے۔‘

حریت کانفرنس کے رہنما بلال غنی لون نے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا ’یہ میرے والد عبدالغنی لون کی برسی تھی، وہاں کوئی بھی آسکتا تھا۔ رہا سوال الیکشن کا تو ہم پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے۔‘

واضح رہے حریت کانفرنس کا میر واعظ دھڑا اس وقت اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔

یہ اختلافات گزشتہ روز اُس وقت کھل کر سامنے آ ئے جب پروفیسر عبدالغنی بٹ نے اپنے آبائی قصبہ سوپور میں عوامی اجتماع سے کہا کہ مسلۂ کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فرسودہ ہوچکی ہیں، اور علیٰحدگی پسندوں کو ہند نواز گروپوں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔

اس بیان میں حریت کانفرنس کے درمیان انتشار پیدا ہوگیا اور میر واعظ عمرفاروق نے وضاحت کی کہ یہ پروفیسر بٹ کی ذاتی رائے تھی تاہم پروفیسر غنی نے کئی مرتبہ اسی مؤقف کا اعادہ کیا۔

رکن اسمبلی عبدالرشید نے حریت کانفرنس کو مخاطب کرکے کہا ’اقوامِ متحدہ کی قراردادیں مسلۂ کشمیر کی بنیاد ہیں اور اپنی بنیاد سے دست بردار ہونا بے وقوفی ہے۔ اگر حریت الیکشن لڑنا چاہتی ہے، تو کھل کرکے کہے کہ وہ اسمبلی کے اندر بھی مسئلہ کو متنازعہ مانے گی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروانے کے لیے نئی دلّی میں دباؤ ڈالتی رہے گی۔

واضح رہے کہ الیکشن میں شرکت یا عدم شرکت کا معاملہ حریت کانفرنس کے وجود کی بیس سالہ تاریخ کا اہم جز رہا ہے۔

کئی علیٰحدگی پسند تنظیموں کے اس اتحاد میں کچھ رہنماؤں نے الیکشن کے تئیں نرم لہجہ اختیار کرلیا تو سید علی گیلانی نے اپنا الگ گروپ بنا لیا۔

اس طرح اب علیٰحدگی پسند خیمہ حریت (ع) اور حریت (گ) میں بٹا ہوا ہے جبکہ محمد یٰسین ملک کی لبریشن دونوں سے برابر فاصلہ بنائے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں