بھارت: پیٹرول قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر کے ریکارڈ اضافے کا اعلان کیا ہے۔

اس اضافے کے بعد دارالحکومت دلی میں اب ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً تہتر روپے اور چنئی میں ستتر روپے ہو جائے گی۔

قیمتوں میں اضافہ بدھ کی نصف شب سے عمل میں آ جائے گا۔ ابھی ڈیزل اور مٹی کےتیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا اور قیمتوں میں اضافے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

لیکن حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں کے علاوہ خود حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ’عام آدمی پر پورا بوجھ ڈالنا مسئلہ کا حل نہیں ہے‘۔

تاہم ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ حکومت سے حمایت واپس نہیں لیں گی۔

روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے بھارتی معیشت کو درپیش مشکلات بڑھی جارہی ہیں۔ وزیر تیل جے پال ریڈی کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں قدر میں صرف ایک روپے کی کمی سے تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کو سالانہ آّٹھ ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق ماہرین کے ایک بڑے حلقے کا یہ مانتا ہے کہ جب تک ملک کے اندر مالی اصلاحات کا عمل دوبارہ شروع نہیں ہوتا، نہ روپے کو مستحکم کیا جاسکتا ہے اور نہ بھارتی معیشت میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات آدیتی نائر کہتی ہیں کہ اصلاحات سے ہی اعتماد بحال ہوگا، اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ، یعنی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو کم کیاجاسکے گا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کواس سمت میں ایک اہم قدم بتایا جارہا ہے۔

لیکن مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گروداس داس گپتا کا کہنا ہے کہ یہ تباہ کن فیصلہ ہے اور اس سے معاشی بحران اور گہرا ہوجائے گا۔

بھارت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تیل کے امپورٹ کا ہے۔ کیونکہ اسے اپنی ضروریات کا اسی فیصد حصہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف روپے کی قدر گھٹ رہی ہے، یعنی دونوں طرف سے چوٹ ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس تیل کی درآمد پر تقریباً ایک سو ساٹھ ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

لیکن ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے ہنگائی بڑھے گی، اور مہنگائی بڑھے گی تو سود کی شرح بڑھانی پڑے گی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ اور جس کی وجہ سے معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑتی جارہی ہے۔

اسی بارے میں