مہنگا پیٹرول، اپوزیشن اور عوام دونوں ناراض

پیٹرول سٹیشن پر بھاری بھیڑ کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دلی میں اب ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً تہتر روپے اور چنئی میں ستتر روپے ہو گئی ہے

بھارت میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر کے ریکارڈ اضافہ کی حزب اختلاف جماعتوں نے سخت مخالفت کی ہے جبکہ حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔

لیکن حکومت کے اس فیصلے سے سب سے زیادہ ناراض عام عوام ہیں جو کہ پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔

قیمتوں میں اضافہ بدھ کی نصف شب سے عمل آ گیا ہے۔ ابھی ڈیزل اور مٹی کےتیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد دارالحکومت دلی میں اب ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً تہتر روپے اور چنئی میں ستتر روپے ہو گئی ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے کے بارے میں ترنمول کانگریس پارٹی کی سربراہ ممتا بینرجی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو بھارت میں اسے کیوں بڑھایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اس حکومت میں صحیح منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت کم ہے اسی لیے یہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ حکومت کو قیمتوں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ہمیں بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ ہم اس کی مخالفت کریں گے۔حکومت کے اس فیصلے سے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوگا‘۔

تاہم ممتا بنرجی نے حکومت سے حمایت واپس لینے سے انکار کیا ہے۔

وہیں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف وہ وسیع پیمانے پر احتجاج کریں گے۔

پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر کا کہنا تھا ’یو پی اے کی حکومت کے دو برس پورے ہونے پر حکومت نے عوام کو یہ تحفہ دیا ہے‘۔

پیٹرول کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بارے میں حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے ترجمان راشد علوی کا کہنا تھا ’روپے کی قیمت کم ہوگئی ہے۔ تیل کمپنیوں کی حالت خراب ہے۔ انہیں پوری آزادی ہے اپنے فیصلے کرنے کا۔ قیمتوں کے اضافے سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے‘۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عوام بےحد ناراض ہیں۔ دلی میں آٹو چلانے والے رفیق احمد کہنا تھا کہ ’یہ حکومت مہنگائی کو اس حد تک لے جانا چاہتی ہے جس کے بعد کوئی بھی دوسری حکومت قیمتیں بڑھا ہی نہ سکے‘۔

وہیں نجی کمپنی میں سینیئر کنسلٹنٹ کویتا کشواہا کا کہنا تھا کہ ’اب مہنگائی ہم جیسے لوگوں کو بھی پریشان کرنے لگی ہے۔ اگر مہنگائی اتنی زیادہ نہ ہو تو میری جیسی تنخواہ والے لوگ بے حد آرام کی زندگی گزار سکتے ہیں‘۔

حکومت کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا اور قیمتوں میں اضافے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

بھارت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تیل کے امپورٹ کا ہے۔ کیونکہ اسے اپنی ضروریات کا اسی فیصد حصہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف روپے کی قدر گھٹ رہی ہے، یعنی دونوں طرف سے چوٹ ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس تیل کی درآمد پر تقریباً ایک سو ساٹھ ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

لیکن ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے ہنگائی بڑھے گی، اور مہنگائی بڑھے گی تو سود کی شرح بڑھانی پڑے گی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ اور جس کی وجہ سے معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑتی جارہی ہے۔

اسی بارے میں