کشمیر: اگر جہاز اغوا ہوا تو؟

سری نگر ایرپورٹ
Image caption کشمیر میں گذشتہ دنوں ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کی مشق کی گئی۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں سرینگر ہوائی اڈے پر سنیچر کے روز غیر یقینی کا ماحول تھا۔ اعلان یہ کیا گیا کہ دلّی سے سرینگر آنے والا ’گو ایئر‘ کا طیارہ جی آٹھ 123 موسم کی خرابی کی وجہ سے سرینگر میں اترنے سے قبل ہی واپس دلّی روانہ ہوگیا۔ اصل بات کچھ اور تھی۔

کشمیر میں فوج، سول حکام اور خفیہ اداروں نے چند ماہ قبل یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کشمیر یا بھارت کے کسی اور خطے سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند سرینگر ہوائی اڈے پر جہاز اغوا کرنے کی کوشش کرینگے۔

ایسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ’اینٹی ہائی جیکنگ‘ نظام ترتیب دینے کے لیے باقاعدہ مشق کا منصوبہ بنایا گیا جس کو سنیچر کی صبح آزمایا گیا۔

سرکاری ذرا‏‏ئع نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاز کو اغوا کرنے کا فرضی واقعہ رچایا گیا، جس میں تامل زبان بولنے والے دو ہائی جیکروں نے جی آٹھ 123 کو ایک سو اسّی مسافروں اور طیارہ کے عملے سمیت ’اغوا‘ کر لیا۔

پہلے سے مشق کی معلومات رکھنے والے معاون پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنڑول کو اطلاع دی ’صبح کے ساڑھے آٹھ بجے ہیں اور جہاز اغوا ہوچکا ہے۔ پائلٹ کو ہلاک کیا گیا اور کیبِن کے باہر پھینکا گیا۔‘

بعد ازاں یہ اطلاع آئی کہ پائلٹ سمیت سات مسافروں کی لاشیں باہر پھینکی گئیں ہیں۔ اس دوران پولیس نے ائیرپورٹ پر کنٹرول روم قائم کیا اور اے ٹی سی نے بھارت کی سرفہرست فورس نیشنل سیکورٹی گارڈ یا این ایس جی کو مطلع کیا۔

اس کے ساتھ ہی ایمبولینس اور آگ بجھانے کے آلات بھی نصب کیے گئے۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد این ایس جی کی ٹیم فورس کے چیئرمین کی قیادت میں ائیرپورٹ پر اُتری۔

اے ٹی سی پر فرضی طور پر اغوا شدہ طیارے سے ایک اور پیغام یہ آیا کہ ہائی جیکر تامِل زبان بولتے ہیں اور پندرہ منٹ کے اندر اے ٹی سی پر ترجمہ کار کا بندوبست کیا گیا۔

ہوائی اڈے پر حفاظتی انتظامات کے نگراں ایس پی عبدالرشید بٹ نے بی بی سی کو بتایا ’ایسی باتیں ظاہر نہیں کی جاتیں۔ لیکن میں کہوں گا جو بھی کیا گیا لوگوں کی سلامتی کے لیے کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ کشمیر میں چار ہوائی اڈے ہیں جو سب کے سب بھارتی فضائیہ کے زیر انتظام ہیں۔ سرینگر میں قائم ہوائی اڈے سے بائیس پروازوں کے ذریعہ روزانہ تقریبا آٹھ ہزار مسافر سفر کرتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کم جگہ اور سیکورٹی انتظامات کی کمی کی وجہ سے انہیں مشکالات کا سامنا ہے۔

پولیس ذرا‏ئع کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ خفیہ اطلاع چند ماہ قبل ملی تھی کہ مقامی عسکریت پسند یا بھارت میں سرگرم ماؤ نواز گروپ طیارہ اغوا کرنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں، جس کے بعد بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ مشق کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کشمیر کے چاروں ایرپورٹ ملٹری کی نگرانی میں ہیں

واضح رہے ماضی میں دو کشمیریوں نے بھارتی طیاروں کا اغوا کیا ہے۔ اُنیس سواکہتّر میں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے گنگا نامی طیارہ کو اغوا کرکے لاہور میں اتارا تھا۔ اس واقع کے چند سال بعد عبدالحمید دیوانی نے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ایک جہاز اغوا کیا اور اسے پاکستان میں اتارا۔

ہاشم قریشی کو پاکستان میں سزا ہوئی اور بعد میں وہ یورپ چلے گئے، پندرہ سال قبل وہ کشمیر آئے اور یہاں جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ حمید دیوانی کو پاکستان نے گلگت جیل میں قید کیا ، لیکن رہائی کے بعد وہ وہیں آباد ہوگئے۔

بھارت میں ایمرجیسنی کا دور ختم ہوا تو جنتا پارٹی حکومت نے اندرا گاندھی کو گرفتار کیا۔ انہیں رہا کروانے کے لیے دو کانگریس کارکنوں نے بھی جہاز اغوا کیا تھا۔ وہ گرفتار کیے گئے لیکن بعد میں کانگریس حکومت کے دوران پارلیمنٹ کے رکن چنے گئے۔

دسمبر اُنیس سو ننانوے میں نیپال سے مسلح افراد نے انڈین ائیرلائن کا آئی سی 814 جہاز اغوا کیا اور اسے افغانستان کے شہر قندھار میں اتارا ۔ اُس وقت کے بھارتی وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے اغواکاروں کے ساتھ لین دین کے تحت مولانا مسعود اظہر سمیت بعض عسکریت پسندوں کو جیلوں سے رہا کرکے قندھار پہنچایا جس کے بعد مسافروں کو صحیح سلامت آزاد کیا گیا اور طیارہ واپس بھارت پہنچایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ بائیس سال کی مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے جب سرینگر کے فوجی ہوائی اڈے پر اس نوعیت کی مشق کی گئی ہو۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’فورسز کا کام ہوتا ہے کہ بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاریاں کریں، اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں