’مذہبی اقلیتوں کے لیے کوٹہ قانونی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوٹہ دینے کے فیصلے کو مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ نے سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں مذہبی اقلیتوں کے لیے کوٹہ مقرر کرنے کی حکومتی کوششوں کو رد کر دیا ہے۔

مرکزی حکومت نے دیگر پسماندہ طبقوں کے لیے موجودہ ستائیس فیصد کے ریزرویشن کوٹے میں سے ساڑھے چار فیصد حصہ مذہبی اقلیتوں کو دینے کا اعلان کیا تھا، جن میں سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مدن بی لوكر اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’اس طرح کا قدم اٹھائے جانے کے لیے کوئی منطقی یا تجربہ کی بنیاد پر اعداد و شمار موجود نہیں ہیں‘۔

عدالت کے مطابق کوٹے کے اندر کوٹے کی تقسیم صرف مذہب کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور یہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔

حکمراں یو پی اے اتحاد کی قائد جماعت کانگریس نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ ’عدالت کے حکم کو پڑھا اور سمجھا جائے گا اور پھر ضرورت پڑی تو اس پر ردعمل دیا جائے گا‘۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان راجیو پرتاپ روڑي نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا،’جب اس ریزرویشن کا اعلان کیا گیا تو ہم نے صاف کہا تھا کہ یہ آئین کے خلاف ہے‘۔

روڑي کے مطابق ان کی پارٹی شروع سے ہی کوٹے کے اندر کوٹہ بنانے کے خلاف رہی ہے کیونکہ یہ صرف ووٹ بینک کی خاطر اقلیتوں کو خوش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران مسلمانوں کو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کرنے پر کئی مرکزی وزراء کو الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیے تھے۔

اسی بارے میں