’بھارتی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی‘

بھارت میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پسماندہ طبقات کے کوٹے میں اقلیتوں کو ریزرویشن دینے کے سوال پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

وفاقی حکومت نے اترپردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات سے ذرا پہلے اقلیتوں کے لیے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا جو پسماندہ طباقات کو پہلے سے حاصل ستائیس فیصد ریزرویشن کے اندر ہی شامل تھا لیکن آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پیر کو حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ وہ آندھرا ہائی کورٹ کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے اور حکومت اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

انہوں نےکہا کہ ’یہ ریزرویشن کسی خاص مذہب کے لیے نہیں بلکہ اقلیتوں کے لیے تھی جس کی بھارت کے آئین میں گنجائش ہے، اقلیتین صرف مذہبی نہیں لسانی بھی ہوتی ہیں اور ریزرویش کی سہولت آبادی کے تناسب سے ہی فراہم کی گئی تھی اور اس میں صرف وہ طبقات شامل کیے گئے تھے جن کی نشاندہی منڈل کمیشن نے کی تھی۔‘

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اپنے فیصلے میں آندھرا ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کے اس فیصلے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ پٹیشن پسماندہ طبقات کے ایک رہنما آر کرشنیا نے دائر کی تھی جن کا موقف تھا کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر امتیاز برت رہی ہے جس کی آئین اجازت نہیں دیتا۔

سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ عدالت نے ریزرویشن کے سرکاری حکم نامہ کی بعض دفعات کو سمجھنے میں غلطی کی ہے جس کی وجہ سے شاید یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس تنازعہ پر حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کا آئینی بینچ ہی سنائے گا۔

حکومت نے جب ریزرویشن کے فیصلے کا اعلان کیا تھا تو حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے دو اعتراض کیے تھے۔

ایک تو یہ کہ دستور ہند مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا اور دوسرا یہ کہ کانگریس کی حکومت اقلیتوں کے نام پر مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے۔

آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے پارٹی کی ترجمان نرملا سیتارمن نے کہا کہ عدالت میں ان کی پارٹی کا موقف درست ثابت ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سب پر ظاہر تھا کہ حکومت کا فیصلہ سیاسی محرکات پر مبنی تھا۔ وہ پسماندہ طبقات کو حاصل ستائیس فیصد کوٹے میں سے ساڑھے چار فیصد کوٹا مذہب کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کو دینے کی کوشش کر رہے تھے، یعنی اتر پردیش میں مسلمانوں کے لیے اور سب کو معلوم تھا کہ یہ فیصلہ عدالت میں ٹک نہیں پائے گا۔

بہرحال، آندھرا ہائی کورٹ کا فیصلہ ان طلباء کے لیے بری خبر ہے جنہیں ریزرویش کی سہولت کی وجہ سے ملک کے سرکردہ تعلیمی اداروں میں داخلہ مل سکتا تھا۔

حکومت جب تک سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، داخلوں کا عمل مکمل ہوچکا ہوگا لہذا قوی امکان ہے کہ حکومت سے پہلے خود طلباء یا ان کی جانب سے کوئی ادارہ سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔

اسی بارے میں