ولدیت تنازع، تیواری کے خون کا نمونہ حاصل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈاکٹروں نے شمالی ریاست اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے بزرگ رہنما نارائن دت تیواری کے خون کا نمونہ آخرکار حاصل کر لیا ہے تاکہ ان کے خلاف ولدیت کے ایک مقدمے کا فیصلہ کیا جا سکے۔

نارائن دت تیواری کی عمر اٹھاسی برس ہے اور ان کا شمار کانگریس کے سینیئر ترین رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔

وہ پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور آندھرا پردیش کے گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

درخواست گزار روہت شیکھر کا دعویٰ ہے کہ نارائن دت تیواری کا ان کی والدہ سے غیر ازدواجی تعلق تھا اور وہ ان کی ہی اولاد ہیں۔

مسٹر تیواری اس الزام سے انکار کرتے ہیں لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اپنے خون کا نمونہ دینے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں حکم دیا تھا کہ اگر مسٹر تیواری نہیں مانتے تو ان کے خون کا نمونہ زبردستی حاصل کیا جائے۔

اس سے قبل سولہ مئی کو دلّی ہائی کورٹ نے اپنے رجسٹرار کو حکم دیا تھا کہ خون کا نمونہ لینے کے لیے مسٹر تیواری کو دلی لایا جائے، چاہیے اس کے لیے پولیس کی ہی مدد ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ لیکن اس ہدایت کے خلاف مسٹر تیواری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مسٹر تیواری نے عدالت سے کہا کہ وہ خون کا نمونہ دینے کے لیے بہت بوڑھے ہو چکے ہیں لیکن عدالت نے کہا کہ ’ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی رگوں میں خون نہیں دوڑ رہا۔‘

جسٹس دیپک ورما اور جسٹس ایس جے مکھوپادھیائے کا کہنا تھا کہ ’ اگر آپ اتنے ہی صاف شفاف ہیں تو جائیں اور اپنے خون کا نمونہ دیجیے۔ کیا کوئی شخص صرف اپنے رتبے کی وجہ سے عدالت کے حکم کو نظر انداز کر سکتا ہے؟‘

منگل کی صبح ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون میں ان کے گھر پہنچی اور عدالت کے نمائندوں کی موجودگی میں مسٹر تیواری کے خون کا نمونہ حاصل کیا۔ اس موقع پر روہت شیکھر اور ان کی والدہ بھی موجود تھیں۔

روہت شیکھر نے چار سال پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے پہلے یہ حکم دیا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو پولیس نمونہ حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتی ہے۔

نارائن دت تیواری گزشتہ کچھ عرصے سے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں ایک مبینہ ’سیکس سی ڈی‘ کے منظرعام پر آنے کے بعد گورنر کے عہدے سے مستعفیٰ ہونا پڑا تھا حالانکہ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ سی ڈی فرضی ہے۔

روہت شیکھر کی عمر بتیس سال ہے اور عدالت سے انہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ فرمان جاری کرنے کی درخواست کی ہے کہ ان کی رگوں میں مسٹر تیواری کا ہی خون ہے۔

اسی بارے میں