فصیح کو پیش کریں، سپریم کورٹ کا حکم

Image caption فصیح محمود کے بارے میں سپریم کورٹ میں حبس بیجا کی درخواست داخل کی گئی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو حکم دیا ہے کہ سعودی عرب میں مبینہ طور پر بھارتی پولیس کی ایما پر گرفتار کیے گئے ایک بھارتی شہری فصیح محمود کو جمعہ تک عدالت میں پیش کیا جائے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق فصیح کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں سعودی حکام نے بھارت کے حوالے کر دیا ہے تاہم فصیح کی گرفتاری یا الزامات کے بارے میں ایجنسیوں نے سرکاری طور پر ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک جوائنٹ سیکرٹری اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

تیرہ مئی کو سعودی عرب کے شہر جبیل میں فصیح محمود کی گرفتاری کے بعد بھارتی میڈیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے تفصیلی خبریں شائع کی تھیں۔

بعض خبروں میں ایجنسیوں کے حوالے سےبتایا گیا کہ انجینیئر فصیح محمود مبینہ طور پر انڈین مجاہدین کے دہشت گرد ہیں اور ان کا کئی برس قبل بنگلور کے ایک سٹیڈیم میں ہونے والے بم دھماکے میں ہاتھ تھا۔

دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی ابھی تک یہ خبر نہیں ہے کہ فصیح محمود کہاں ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق فصیح کی اہلیہ نکہت پروین نے بدھ کو دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’وزارت خارجہ سے بات کی ، وزیر داخلہ سے ملی، داخلہ سیکرٹری سے بات کی۔ این آئی اے سے رجوع کیا، سی بی آئی سے بات کی اور سب نے یہی کہا کہ میرے شوہر کسی معاملے میں کسی کو مطلوب نہیں ہیں لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میرے شوہر کہاں ہیں‘۔

نکہت نے حقوق انسانی کی تنظیموں کی مدد سے سپریم کورٹ میں حبس بیجا کی درخواست داخل کی ہے۔

حقوق انسانی کی کارکن منیشا سیٹھی نے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ نے وزارتِ خارجہ ، وزارتِ داخلہ اور مہاراشٹر ، بہار ، کرناٹک اور دلی کی ریاستی حکومتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ فصیح محمود کو جمعہ تک عدالت میں پیش کر دیں‘۔

منیشا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فصیح محمود کے بارے میں جو بھی حقائق ہوں اسے سامنے لائے۔’فصیح کا معاملہ کوئی الگ معاملہ نہیں ہے ۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے نام پر یہ غیر قانونی گرفتاریوں ، حراستوں اور جعلی جھڑپوں کے طویل سلسلے کا ہی ایک حصہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ فصیح کی گرفتاری کے بارے میں سرکاری طور پر ابھی تک ان کی اہلیہ یا گھر والوں کو کچھ بھی نہیں بتایاگیا ہے جب کہ اخبارات میں نامعلوم ذرائع کے جوالے سے روزانہ خبریں شائع کرائی جاتی ہیں۔

فصیج محمود سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کا تعلق بہار کے در بھنگہ ضلع سے ہے ۔ وہ باڑھ سیل نام کے گاؤن کے ایک تعلیم یافتہ اور قدرے متمول گھرانے سے تعلق رکتے ہیں۔

باڑھ سیل اور اطراف کے بعض دیہات سے گزشتہ چار مہینے میں چار نوجوانوں کو دہشت گردی کے مختلف معاملات میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گاؤں کے باشندے دہشت گردی کے پولیس کے دعوے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔