’وزارت دفاع کے ساتھ کوئی غلط فہمی نہیں‘

وی کے سنگھ، اے کے اینٹونی تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption گذشتہ دنوں فوجی سربراہ وی کے سنگھ اور وزیر دفاع اے کے اینٹونی کے درمیان تنازعات نظر آئے ہیں

بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اپنے ریٹائرمنٹ سے ٹھیک ایک دن قبل کہا ہے کہ ملک کی وزارت دفاع کے ساتھ ان کے تعلقات خراب نہیں ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے پونے شہر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وزارت دفاع اور فوج کے درمیان کسی طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ ہم ایک ہیں۔ فوج حکومت کا حصہ ہے اور فوج کچھ بھی کہتی ہے تو اسے سنا جاتا ہے‘۔

انھوں نے مزید کہاکہ ’وہاں ایک طریقہ کار ہے، اگر کوئی یہ کہے کہ فوج کی سنی نہیں جا رہی ہے اور اسی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ درست نہیں ہے‘۔

جمعرات کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے جنرل سنگھ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف وجوہات کے سبب تنازعات کا حصہ رہے ہیں اور انھیں وجوہات کی بناء پر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ بھارت کی وزارت دفاع سے ان کے تعلقات استوار نہیں ہیں۔

بہر حال وزیر دفاع اے کے اینٹونی اور فوجی سربراہ جنرل سنگھ کی جانب سے وقتاً فوقتاً یہ وضاحت کی جاتی رہی ہے کہ یہ معاملات ذاتی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود میڈیا میں ان پر تبصرے عام ہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’وزارت کے ساتھ میرے تعلقات خراب نہیں ہیں، اگر کچھ لوگ ایسا کہتے ہیں تو آپ ان سے ہی پوچھیے۔ اگر کسی معاملے میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے تو اس کی اپنی وجہ رہی ہے۔ اس کے اسباب جہاں ہیں سوال وہیں کرنا چاہیے‘۔

انھوں نے نہ صرف وزارت دفاع کے ساتھ اپنے رشتوں کی وضاحت کی بلکہ وزیر دفاع کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا، ’وزیر دفاع (اے کے اینٹونی) فوج کی حمایت کرنے والے کشادہ ذہن کے انسان ہیں‘۔

فوجی سربراہ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر فوج کی جنگی تیاریوں کے متعلق سوال اٹھائے تھے لیکن بدھ کو انھوں نے کہا کہ فوج کے تینوں شعبے بری، بحری اور فضائیہ کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا،’ملک کی حفاظت دو اصولوں پر مبنی ہے، پہلا بھارت کسی دوسرے ملک پر بری نظر نہیں رکھتا اور دوسرا یہ کہ وہ کسی پر اپنے اصول نہیں تھوپتا‘۔

اس لیے جب ملک کی سرحدوں کے دفاع کی ضرورت ہوتی ہے تو فوج انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوج کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مستقبل میں ملک کے دفاع کے لیے اپنے آپ کو ضرورت کے لحاظ سے تیار کرے۔

بدعنوانی کے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ صرف ان کی لڑائی نہیں ہے بلکہ سبھی کی لڑائی ہے اور ملک کے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے کیونکہ اس پر سبھی کا حق ہے۔

اسی بارے میں