اطالوی مرین فوجیوں کی رہائی کا حکم

اٹالوی فوجی
Image caption اٹالوی مرین فوجی پر دو ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے۔

جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ کے ہائی کورٹ نے ان دو اطالوی مرین فوجیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جن پر دو بھارتی ماہی گیروں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

یہ مرین فوجی ایک اطالوی بحری مالبردار جہاز کی سکیورٹی پر مامور تھے کہ انہوں نے پندرہ فروری کو کیرالہ کے ساحل کے قریب ایک چھوٹی کشتی پر فائرنگ کی جس میں دو بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگئے۔

اطالوی فوجیوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے بھارتی ماہی گیروں کو سمندری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلائی تھی۔

اس واقعہ کے بعد سے بھارت اور اٹلی کے درمیان ایک سفارتی تنازعہ جاری ہے۔ اٹلی کا دعوی ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا تھا لہذا فوجیوں پر مقدمہ اٹلی میں چلایا جانا چاہیے لیکن بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ جس وقت فائرنگ کی گئی، اطالوی جہاز بھاری سمندری حدود میں تھا لہذا ان پر بھارتی قوانین کے تحت ہی مقدمہ چلے گا۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے لتوری ماسیمیلانو اور سالواتور گیرونی کو ایک کروڑ روپے کے مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ انہیں دو بھارتی شہری بطور ضامن بھی پیش کرنے ہوں گے اور وہ کیرالہ سے باہر نہیں جاسکیں گے۔

اس سے پہلے اطالوی حکومت نے فوجیوں کے خلاف ایف آئی آر خارج کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن منگل کو اس کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔عدالت نے اس پر ایک لاکھ روپے کاجرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں