پیڑول کی قیمت میں اضافے پر حکومت کو مشکلات

ڈی ایم کے سربراہ، کروناندھی
Image caption پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے خلاف ملک کی کئی سیاسی پارٹیوں نے ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے

بھارت میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعت ڈی ایم کے بھی ان پارٹیوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہوگئی ہے جو پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی واپسی کے لیے حکومت پر دباؤ قائم کر رہی ہیں۔

تمل ناڈو کے علاقے میں ایک احتجاجی جسلے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی ایم کروناندھی نے پہلے یہ درپردہ دھمکی دی تھی کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی تو وہ وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ’ ڈی ایم کے حکمراں اتحاد میں شامل ہے، عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے، ہم پہلے بھی حکمراں اتحادوں سے حمایت واپس لے چکے ہیں، چاہے وہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ہو یا پھر وی پی سنگھ کی حکومت۔‘

اس کے کچھ ہی دیر بعد مسٹر کروناندھی نے کہا کہ ان کی جماعت حکمراں اتحاد سے الگ نہیں ہوگی کیونکہ اس سے وفاقی حکومت کمزور ہو جائے گی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق کروناندھی نے کہا کہ’ اگر اتحاد میں شامل رہتے ہوئے ہم مسائل حل کرانے میں ناکام رہے ہیں تو ہم نے کبھی اپنے اصولوں کے لیے اتحاد سے الگ ہونے ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے کے ریکارڈ اضافے کا اعلان کیا تھا۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور خود حکومت کی کئی اتحادی جماعتیں اس فیصلے کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکتیس مئی کو اس سلسلے میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ اترپردیش کی حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی اور اڑیسہ کی حکمراں جماعت بیجو جنتا دل نے بھی اپنی اپنی ریاستوں میں اکتیس مئی کو ہی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل دوسری سب سے بڑی جماعت ترنمول کانگریس بھی احتجاج کر رہی ہے اور پارٹی کے وفاقی وزیر مکل رائے نے خود مغربی بنگال میں مظاہروں کی قیادت کی۔

ڈی ایم کے تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ہے اور ٹو جی گھپلے کے سلسلے میں کانگریس سے اس کے روابط کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔

کروناندھی کی بیٹی اور رکن پارلیمان کنی موڑی اور ڈی ایم کے کے سابق وفاقی وزیر اے راجہ کو ٹو جی گھپلے کے سلسلے میں کئی الزامات کا سامنا ہے اور کافی عرصہ جیل میں گزرانے کے بعد انہیں حال ہی میں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والی کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔

بھارت میں ڈیزل اور کھانا پکانے کی گیس رعایتی قیمتوں پر فروخت کی جاتی ہے تاہم افراط زر میں اضافے کے ڈر اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے بظاہر حکومت فی کوئی سخت فیصلہ کرنے سے بچ رہی ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا تاہم ریاستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹیکسوں میں کچھ کمی کرکے صارفین کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں