بھارتی فوج کے سربراہ وی کے سنگھ ریٹائر ہو گئے

وی کے سنگھ
Image caption اپنی عمر سے متعلق تنازعہ پر جنرل وی کے سنگھ نے عدالت سے رجوع کیا تھا

چھبیس مہینے قبل فوج کے سربراہ کے عہدے پر فائز ہونے والے متنازعہ فوجی جنرل وی کے سنگھ جمعرات کو ریٹائٹر ہوگئے ہیں۔ وکرم سنگھ ملک کے نئے فوجی سربراہ ہونگیں۔

وکرم سنگھ فوج کی مشرقی کمانڈ کے کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے۔وہ دو برس اور تین ماہ تک فوجی سربراہ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

فوجی امور کے ماہر راہل بیدی کے مطابق بھارت کے ستائسویں فوجی سربراہ جنرل وکرم سنگھ پہلے ایسے فوجی سربراہ ہونگے جو فوج کا یہ اعلٰی عہدہ ایک ایسے وقت میں سنبھال رہے ہیں جب وہ تنازعات سے گھری ہوئی ہے۔

راہل بیدی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وکرم سنگھ پہلے ایسے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے کسی بھی جنگ میں حصہ نہیں لیا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ نئے فوجی سربراہ کو ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں کو ماؤنوازوں کے قبضے سے نکالنے کے چیلنج کے علاوہ سیاچن گلیشئیر سے فوج واپس بلانے اور کشمیر سے سپشل آرمڈ فورس ایکٹ یعنی فوج کو حاصل خصوصی اختیار والا قانون ہٹانے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے دوران ان کی عمر کو لے کے تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔

اپنی عمر سے متعلق تنازعہ پر جنرل وی کے سنگھ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جنرل سنگھ نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا کہ ان کی تاریخ پیدائش میں کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔

جنرل سنگھ کا دعویٰ تھا کہ ان کی درست تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون ہے جو فوج میں بھرتی کے وقت غلطی سے انیس سو پچاس لکھی گئی تھی، لہٰذا اسے درست کر دیا جائے۔ لیکن حکومت نے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کے رخ کو دیکھتے ہوئے پہلے حکومت نے اپنا تیس دسمبر کا وہ وہ حکم واپس لے لیا تھا جس کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھائے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت نے جنرل سنگھ کی پہلی درخواست کے خلاف ان کی اپیل کو مسترد کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا، اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، لہٰذا حکومت اسے واپس لینے پر غور کرے۔

پٹیشن واپس لینے کے بعد جنرل سنگھ کے وکیل نے دعوی کیا تھا کہ’ اٹارنی جنرل کے بیان سے جنرل سنگھ کی عزت اور وقار بحال ہوگیا ہے اور اب یہ معاملہ خوش اصلوبی سے طے پا گیا ہے‘۔

واضح رہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر فوج کی جنگی تیاریوںسے متعلق سوال اٹھائے تھے لیکن ریٹائر ہونے سے ایک روز قبل یعنی بدھ کو انھوں نے کہا کہ فوج کے تینوں شعبے بری، بحری اور فضائیہ کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی حفاظت دو اصولوں پر مبنی ہے، پہلا بھارت کسی دوسرے ملک پر بری نظر نہیں رکھتا اور دوسرا یہ کہ وہ کسی پر اپنے اصول نہیں تھوپتا‘۔

اس لیے جب ملک کی سرحدوں کے دفاع کی ضرورت ہوتی ہے تو فوج انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ فوج کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مستقبل میں ملک کے دفاع کے لیے اپنے آپ کو ضرورت کے لحاظ سے تیار کرے۔

دیگر ایک معاملے میں جنرل وی کے سنگھ نے الزام عائد کا تھا کہ انہیں ایک فوجی سودے کے سلسلے میں رشوت کی پیش کش ہوئی تھی۔

بدعنوانی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ صرف ان کی لڑائی نہیں ہے بلکہ سبھی کی لڑائی ہے اور ملک کے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے کیونکہ اس پر سبھی کا حق ہے۔

اسی بارے میں