بھارت: پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کےخلاف مظاہرے

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں پٹرول کے خلاف ملک گیر بند کا اہتمام کیا جا رہا ہے

پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے خلاف بھارت میں حزب اختلاف کی پارٹیوں نے جمعرات کوملک گیر پیمانے پر بھارت بند کا اعلان کیا ہے اور وسیع پیمانے پر اس کے اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دلّی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نہ صرف پٹرول کی قیمتوں کے اضافے کی مخالفت کر رہی ہے بلکہ دلی ریاستی حکومت کے ذریعے سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بھی مظاہرہ کر رہی ہے۔

حالانکہ دلّی کی حکومت نے پٹرول پر لگنے والے ٹیکس میں کمی کر کے پٹرول کی قیمت میں دو روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے لیکن اس کم قیمت کا نفاذ جمعہ سے ہی ہو سکے گا۔

دوسری جانب ملک کی دوسری ریاستوں میں نہ صرف بی جے پی ہی بلکہ مختلف تجارتی تنظیمیں اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں اور جگہ جگہ بند کا اعلان کیا گیا ہے۔

مشرقی ریاست بہار سے بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر نے خبر دی ہے کہ پٹنہ یونیورسٹی اور اس کے قرب جوار میں یہاں تک کہ باڑھ کے پاس ریل گاڑیوں کو بھی روکا جا رہا ہے حالانکہ بند کے اعلان میں ریل گاڑیوں کو متاثر نہ کرنے کی بات کہی گئي تھی۔

بہار میں بائیں بازو کی ماؤ اور لینن نواز جماعت بھی اس ملک گیر ہڑتال میں شامل ہے۔ بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے کوڈرما میں ہاوڑہ راجدھانی کو روکا گیا ہے۔ بہار کے دربھنگہ میں سمپرک کرانتی سوپر فاسٹ ٹرین کو روکا گیا ہے اور بہار کے سہرسہ ضلع مین جنتا دل یونائٹڈ کے سربراہ شرد یادو نے گرفتاری دی ہے۔

اسی دوران ملک کے کئی شہروں سے تشدد کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ دارالحکومت دلّی کے کئی علاقوں میں جام کی خبریں مل رہی ہیں۔ دلی میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے پٹرول کی قیمت میں ریارڈ اضافے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں برسراقتدار سماجوادی پارٹی بھی اس بند میں شامل ہے۔ اترپردیش کے تاریخی شہر الہ آباد میں بھی ٹرین کے روکے جانے کی خبر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے یوپی اے حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر کے ریکارڈ اضافے کا اعلان کیا تھا جس پر ملک میں شدید مخالفت پائی جا رہی ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل دوسری سب سے بڑی جماعت ترنمول کانگریس بھی احتجاج کر رہی ہے اور پارٹی کے وفاقی وزیر مکل رائے نے خود مغربی بنگال میں مظاہروں کی قیادت کی۔

بدھ کے روز بھارت میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعت ڈی ایم کے بھی ان پارٹیوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہوگئی ہے جو پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی واپسی کے لیے حکومت پر دباؤ قائم کر رہی ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والی کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔

بھارت میں ڈیزل اور کھانا پکانے کی گیس رعایتی قیمتوں پر فروخت کی جاتی ہے تاہم افراط زر میں اضافے کے ڈر اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے بظاہر حکومت فی کوئی سخت فیصلہ کرنے سے بچ رہی ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا تاہم ریاستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹیکسوں میں کچھ کمی کرکے صارفین کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں