بھارت: سپرم ڈونیشن کا بڑھتا ہوا رجحان

فلم وکی ڈونر کا پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ official website
Image caption وکی ڈانر فلم نے سپرم ڈونیشن کے بارے میں غلط تاثر پھیلایا ہے

ہم نے کبھی نہ کبھی خون اور دیگر اعضاء کے عطیہ جیسے موضوع پر کھل کر بحث کی ہو گی لیکن نطفے کے عطیے کے بارے میں بھارتی معاشرے میں اب تک صرف دبے الفاظ میں بحث ہوتی تھی۔

حال ہی میں رلیز ہونے والی فلم ’وکی ڈونر‘ نے اس موضوع پر کھلے عام بات چیت کرنے میں مدد کی ہے اور یہ فلم باکس آفس پر کافی کامیاب ہوئی ہے۔

فلم کے ریلیز ہونے کے بعد انفرٹیلٹی کلینک میں نطفے کے عطیے کےلیے لوگوں کی فون کالز کا انبار لگنا شروع ہو گیا۔ فلم نے یہ موضوع تو چھیڑ دیا لیکن نطفے کا عطیہ کرنے کے بارے میں جو تاثر اس فلم نے پھیلایا ہے وہ کتنا درست ہے؟

دلی آئی وی ایف کلینک کے سربراہ ڈاکٹر انوپ گپتا کہتے ہیں کہ وکی ڈونر فلم آنے کے بعد لوگوں نے نطفہ عطیہ کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا لیکن لوگوں کے پاس صحیع معلومات نہیں ہیں اور نطفے کا عطیہ کرنے کےلیے ہمارے پاس دن میں کم از کم بیس فون آتے ہیں۔ ہم پریشان ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر گپتا پریشان اس لیے ہیں کیونکہ اس فلم نے بھلے ہی نطفہ عطیہ کرنے کے بارے میں شعور بیدار کیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعور سے زیادہ اس فلم نے غلط تاثر بھی پھیلایا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے نطفے کا عطیہ کرنے کے ذریعے وکی نام کا وہ نوجوان راتوں رات امیر بن جاتا ہے اور اسے اپنا پیشہ بنا لیتا ہے۔ لیکن حقائق جاننے کےلیے میں نے نطفے کا عطیہ کرنے والے ایک پینتیس سالہ شخص سے بات کی۔ انہوں نے اپنا نام تو نہیں بتایا لیکن اتنا ضرور بتایا کہ وہ ایک میکینیکل انجینیئر ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وکی ڈونر صرف ایک فلم ہے اور جو فلم میں عکاسی کی گئی ہے حقیقت میں ایسا بلکل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’میں نطفے کا عطیہ اس لیے کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ نطفہ ضائع کرنے کے بجائے اسے کسی کا اچھا ہو جائے تو کیا برائی ہے۔ اور پھر اس کام میں اگر تھوڑا جیب خرچ بھی نکل آئے تو کیا برا ہے۔‘

یاد رہے کہ بھارت میں نطفے کا عطیہ دینے والے کو صرف دو سو روپے دیے جاتے ہیں اور برطانیہ جیسے ممالک میں نطفے کا عطیہ دینے والوں کو تقریباً ساٹھ پائونڈ یعنیٰ تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی روپیے دیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر نطفے کا عطیہ دینے کو پیسے سے منسلک کر کے دیکھا جانے لگا تو پھر یہ عطیہ نہیں بلکہ ایک پیشے کے طور پر جانا جائے گا۔

دلی کے ایک سپرم بینک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال مہدی کہتے ہیں کہ ’نطفے کا عطیہ ایک نیک کام ہے اور اسے پیسے سے منسلک کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیئے۔ ہم یہاں نطفے کا عطیہ کرنے والوں کو تھوڑے بہت پیسے اس لیے دیتے ہیں تاکہ اسے لوگوں کے آنے جانے کا خرچہ نکل سکے۔‘

نطفہ عطیہ کرنے کے بارے میں دوسرا تاثر جو وکی ڈونر فلم میں دیا گیا ہے وہ یہ کہ ایک عطیہ کرنے والے کے نطفے سے سینکڑوں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ یعنی’ آئی سی ایم آر‘ کے قوائد و ضوابط کے مطابق ایک نطفہ عطیہ کرنے والے نطفہ سے دس سے زیادہ بچے پیدا نہیں کیے جانے چاہئیں کیونکہ ایک ہی نطفے سے پیدا ہونے والے بچے کچھ حد تک ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں۔

آئی سی ایم آر کے قوائد و ضوابط میں ایک مرد کو اپنی زندگی میں صرف چھیئتر بار ہی نطفے کا عطیہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سپرم بینک میں عطیہ کرنے کے شخص کے ساتھ صرف ایک سال کا ہی کانٹریکٹ کیا جاتا ہے۔

قوائد و ضوابط میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی کلینک سپرم بینک سے نطفہ حاصل کرتی ہے اور وہ نطفہ بچہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کا ریکارڈ سپرم بینک کو دیا جانا چاہیے۔

لیکن بھارت میں اس حوالے سے کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے آئی سی ایم آر کے قوائد و ضوابط پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا جاتا ہے۔

سپرم بینک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال مہدی کہتے ہیں کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ نطفے کا عطیہ کرنے والے شخص کا ایک بینک کے ساتھ کانٹریکٹ ختم ہونے کے بعد وہ دوسرے بینک جا کر عطیہ نہ کر دے۔

دلی کی نرچر آئی وی ایف کلینک کی ڈاکٹر ارچنا دھون بجاج کہتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایک قانون کی ضرورت ہے۔ نطفے کا عطیہ کرنے والوں کی فہرست رکھنے کےلیے ایک مرکزی ادارے کی تشکیل ہونی چاہیئے جو ایک قانون کے تحت کام کرے۔ آخرکار یہ معاملہ ایک نئی زندگی بنانے سے منسلک ہوتا ہے۔

دو ہزار آٹھ میں اسسٹیڈ ری پروڈکٹو ٹیکنالاجی یعنی مصنوعی طریقے سے بچے پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی سے متعلق ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا جس میں اس قسم کے معملات کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ قوانین کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن وہ قانون اب تک التوا کا شکار ہیں۔

وکی ڈونر فلم نے بھلے ہی اس موضوع کو مزاحیہ رنگ دے کر اس کے بارے میں بیداری پھیلانے کی کوشش کی ہو لیکن نطفے کا عطیہ کرنے سے متعلق باریکیوں کو دیکھ کر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس سے سنجیدگی سے لیے جانے کےلیے قانون کا ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں