فوج کے ’غیر سیاسی‘ مزاج کو قائم رکھوں گا : جنرل بکرم سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا ہے کہ فوج میں کسی بھی تنازعہ کو پس پردہ نہیں دھکیلا جائے گا اور وہ اس کے ’سیکولر اور غیرسیاسی‘ مزاج کو قائم رکھنے کی کوشش کریں گے۔

جنرل بکرم سنگھ نے جنرل وی کے سنگھ کی جگہ فوج کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی ہے جن کا دور تنازعات میں گھرا رہا اور حالات اس نہج پر پہنچے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے سربراہ نے حکومت کو عدالت میں گھسیٹا۔

فوجی امور کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ اور ملک کی سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات اتنے کشیدہ ہوگئے تھے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بنیادی تنازعہ دفاعی سازوسامان کے سودوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش کے سوال پر تھا۔

جنرل سنگھ کا الزام تھا کہ فوج برسوں سے غیر معیاری سازوسامان خرید رہی ہے اور چھ سو ٹرکوں کے سودے کی منظوری کے بدلے انہیں چودہ کروڑ روپے بطور رشوت دینے کی پیش کش کی گئی تھی۔

ان کے بقول وزیرِدفاع سے شکایت کرنے کے باوجود اس کیس میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب وزیر دفاع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے باضابطہ طور پر کبھی شکایت نہیں کی گئی تھی اور جنرل سنگھ خود کارروائی کے حق میں نہیں تھے۔

دوسرا تنازعہ جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش پر تھا۔ جنرل سنگھ کا دعویٰ تھا کہ فوج کے ریکارڈ میں ان کی پیدائش کا سال غلط درج ہے لیکن حکومت نے اسے بدلنے سے انکار کردیا تھا۔ اگر حکومت ان کی درخواست منظور کر لیتی تو وہ مزید ایک سال فوج کے سربراہ رہ سکتے تھے۔

اس پس منظر میں فوج اور سیاسی قیادت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے اور کافی عرصے سے دونوں کے دورمیان ذرائع ابلاغ میں بالواسطہ جنگ جاری تھی۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ فوج کی اعلی ترین قیادت بھی گروہ بندی کا شکار ہے۔

جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ’ ہم ایک سیکولر اور غیر سیاسی فوج کے طور پر کام کرتے رہیں گے اور اپنی ذمہ داریاں اسی انداز میں نبھائیں گے جیسے وہ نبھائی جانی چاہئیں۔‘

لداخ میں فوج کے جوانوں اور افسران کے درمیان جھگڑے اور شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ایک فرضی مقابلے کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ ’ کسی بھی تنازع کو چھپانے کی کوشش نہیں کی جائے گی اور ان معاملات سے فوج کے ضابطوں کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘

بھارت میں جمعہ کے اخبارات جنرل سنگھ کے لیے مشوروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر اخبارات کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ مشکل حالات میں یہ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق اگرچہ فوج کو تیاری کی حالت میں لانے کے لیے جدید ترین اسلحہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان کا سب سے پہلا کام فوج کی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔

اسی اخبار میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ستیش نامبیار نےلکھا ہے کہ جرنل سنگھ کو ’اس فائیو سٹار کلچر کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا جس نے گزشتہ دو دہائیوں میں فوج میں جگہ بنالی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فوجی افسر اور ان کے جوان تربیت اور اسلحے کے رکھ رکھاؤ پر زیادو وقت صرف کریں۔‘

ان اخبارات کا یہ بھی مشورہ ہے کہ جن افسران کی وفاداریاں سابق سربراہ کے ساتھ تھیں انہیں جنرل سنگھ کے ساتھ کام کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے لیکن ایسے افسران کو یا تو ایک نئی شروعات کرنی چاہیے یا فوج سے استعفیٰ دیکر گھر چلےجانا چاہیے۔

اسی بارے میں