بھارت: پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی زبردست مخالفت ہوئی تھی

بھارت میں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے صرف ایک ہفتے بعد قیمتوں میں دو روپے کی کمی کا اعلان کیا۔ قیمتوں میں بھاری اضافے کے خلاف غیر کانگریسی جماعتوں نے اکتیس مئی کو ملک گیر ہڑتال کی تھی جس سے کئی ریاستوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے تھے۔

چوبیس مئی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر کے ریکارڈ اضافے کا اعلان کیا تھا جس پر نہ صرف حزب اختلاف بلکہ خود کانگریس کی اتحادی جماعتوں نے جم کر تنقید کی تھی۔ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے لیکن حکومت کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی قدر اور ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے پیش نظر تیل پر دی جانے والی بھاری مالی رعایت کو ختم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔

لیکن حکومت نے سیاسی نقصان اور افراط زر میں اضافے کے امکان سے بچنے کے لیے ڈیزل اور کھانا پکانے کی گیس کی قیمتوں میں کوئی ترمیم نہیں کی تھی۔

حکومت کا کہنا ہےکہ قیمتوں میں کمی کا اعلان بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا کہ صرف دو روپے کی کمی کافی نہیں ہے اور وہ چاہتی ہےکہ پورا اضافہ واپس لیا جائے۔ . حکومت کا دعوٰی ہے کہ قیمتوں کا تعین تیل برآمد کرنے والی سرکاری کمپنیاں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کی بنیاد پر کرتی ہیں لیکن عام طور پر مانا جاتا ہےکہ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ حکومت کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ بین االاقوامی بازاروں میں تیل کی قیمتیں گزشتہ چند دنوں میں ایک سو چوبییس ڈالر سے گر کر ایک سو پندرہ ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں لیکن اسی دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور کم ہوئی ہے۔

اسی بارے میں