’پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار‘

پاک جوہری اصلحہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور بھارت دونوں نے انیس سو اٹھانوے میں اپنی جوہری قوت کا اعلان کیا تھا۔

سویڈن کے رسرچ ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ یعنی سپری نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

سپری کے مطابق بھارت کے پاس اسّی سے سو جبکہ پاکستان کے پاس نوّے سے ایک سو دس جوہری ہتھیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک ملٹری مقاصد کے حصول کے لیے اپنے جوہری ہتھیار کے زخیروں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

سپری نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ’بھارت اور پاکستان مسلسل ایسے نطام بنا رہے ہیں جس سے جوہری ہتھیاروں کا استعمال اور ان کی توسیع ملٹری ضروریات کے لیے کی جا سکیں۔‘

اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ کےدرمیان ایک جیسی رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کے آٹھ جوہری ممالک کے پاس انیس ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ انیس سو اٹھانوے کے بعد پہلی بار سن دو ہزار گیارہ میں دنیا کے ملٹری اخراجات میں دو ہزار دس کے مقابلے میں بہت کم اضافہ درج کیا گیا ہے۔

سپری نے جو اعداد و شمار پیش کیے ان کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ میں دنیا بھر میں فوجی ساز و سامان پر ایک اعشاریہ سات تین کھرب امریکی ڈالر خرچ کیے گئے جو کہ دو ہزار دس کے مقابلے میں صرف صفر اعشاریہ تین فی صد کا اضافہ ہے۔

امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان اور اسرائیل کے پاس کل ملاکر لگ بھگ انیس ہزار جوہری ہتھیار ہیں جبکہ سنہ دو ہزار گیارہ کے شروع میں اس کی تعداد بیس ہزار پانچ سو تیس تھی۔

سویڈن کے ادارے کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی کل تعداد میں کمی روس اور امریکہ کے سبب ہوئی ہے۔ اس کی وجہ دونوں ممالک میں جوہری ہتھیار کم کرنے کا سٹارٹ نامی معاہدہ ہے۔

اسی بارے میں