محبت کی شادی کے ’محافظ‘

راجویر اور مادھوری
Image caption راجویر اور مادھوری نے لوو کمانڈو سے مدد لی تھی۔

بھارت میں بہت سے لوگوں کے لیے محبت کرنا ابھی تک ایک ’گناہ‘ ہے اور بیشتر شادیاں والدین کے ذریعے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔

لیکن اب بھارت میں محبت کرنے والوں کے تحفظ کے لیے ’لو کمانڈوز‘ کا ایک گروپ تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آ یا ہے۔

بھارتی سماج میں تیزی سے آنے والے بدلاؤ کے باوجود ایک لڑکے اور لڑکی کے لیے اپنی مرضی سے شادی کرنا آسان نہیں ہے خواہ وہ ایک دوسرے سے محبت ہی کیوں نہ کرتے ہوں، بالغ بھی ہوں اور اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہوں۔

راجویر اور مادھوری کی شادی ان کے کنبے کے لوگوں کو منظور نہیں تھی کیونکہ دونوں مختلف ‎‎ذات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن آج دونوں میاں بیوی کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں اور اس کا سہرا جاتا ہے ’لو کمانڈو‘ کو جنھوں نے نہ صرف انھیں ملایا بلکہ انھیں تحفظ بھی فراہم کیا۔

تیئیس سال راجویر سنگھ کا کہنا ہے کہ جب وہ بارہ سال کے تھے تو مادھوری کا خاندان ان کے پڑوس میں آباد ہوا اور جب انہوں نے پہلی بار مادھوری کو دیکھا تو وہ چودہ سال کی تھیں۔ راجویر کے مطابق ’میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ہے وہ لڑکی جس سے میں شادی کروں گا۔ وہ شرارتی تھی اس کی مسکراہٹ خوبصورت تھی اور مجھے امید تھی کہ وہ میری اچھی طرح سے دیکھ بھال کرےگی‘۔

چمکیلی آنکھوں والی مادھوری کا بھی کہنا ہے کہ راجویر کو دیکھنے کے بعد ان کے دل میں بھی یہی احساس بیدار ہوا تھا۔ پھر دونوں برسوں ایک دوسرے کے ساتھ سکول جاتے رہے اور اپنی خوشیاں اور خدشات بانٹتے رہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں دیوانے ہو گئے۔

آپ جانتے ہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ یہ بھارت ہے یہاں والدین رشتوں کو اسی طرح پرکھتے ہیں جیسے ناسا خلاء میں کوئی سیارہ چھوڑنے سے پہلے خلائی جہاز کی جانچ کرتا ہے۔

سب سے پہلے ذات دیکھی جاتی ہے، پھر صورت، پھر جنم کنڈلی ملائی جاتی ہے، قد دیکھا جاتا ہے، عادت و اطوار پر نظر ڈالی جاتی ہے، پھر تعلیم دیکھی جاتی ہے خاندان دیکھا جاتا ہے اور کھانے پینے کی عادات لیکن ان میں محبت کسی مرحلے پر نظر نہیں آتی۔

جب راجویر اور مادھوری نے اپنے والدین سے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کا جواب صاف انکار میں تھا۔ راجویر ٹھاکر یا زمیندار خاندان سے ہیں جبکہ مادھوری بنیا یا تاجر برادری سے۔ بظاہر ان کا میل ناممکن تھا۔

لیکن یہ دونوں اپنے ارادے میں اٹل نکلے۔ مادھوری کے والدین اسے گاؤں واپس لے گئے اور تاکہ اس زبردستی اس کی مناسب جگہ شادی کر دی جائے۔ اسی دوران راجویر نے ایک منصوبہ بنایا اور ’لو کمانڈو‘ کے پاس پہنچ گیا۔

’لو کمانڈوز‘ لمبے چوڑے تلواریں لہراتے ہوئے لوگ نہیں۔ دس سال قبل کچھ کاروباری حضرات اور صحافیوں نے اس تنظیم کی شروعات کیں جس کا مقصد ایک دوسرے سے پیار کرنے والے لوگوں کو خاندان والوں اور سماج کی ایذا رسانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

’لو کمانڈو‘ کے بانیوں میں سے ایک سنجوئے سچدیو نے بتایا کہ یہ بنیادی طور پر ایک ہیلپ لائن ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے چلاتے ہیں۔ بھارت کے چاہنے والوں کو اگر تحفظ چاہیے تو یہ انھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

لیکن اپنے خاندان والوں کو مرضی کے خلاف شادی کرنے والے جوڑوں کو بچانا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا خاصا مہنگا اور مشکل کام ہے۔ دہلی میں ’لو کمانڈو‘ کا ایک ماہ کا خرچ تقریبا ڈھائی سے تین لاکھ روپے کے درمیان آتا ہے۔

سنجوئے کہتے ہیں، ’ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے، ہم اب بکھر گئے ہیں، ہمارے ساتھی چھوڑ کر چلے گئے، مجھے پتہ نہیں کہ ہم کب تک اس چلا پائیں گے‘۔

سنجوئے اور ان کے ساتھی مانتے ہیں کہ ذات پات پر مبنی ہندوستانی سماج میں تبدیلی کا واحد راستہ محبت کی شادی ہے۔ انھیں امید ہے کہ ان شادیوں سے ہونے والے بچے زیادہ آزاد اور زیادہ مساوی ہونگے۔

لیکن اگر راجویر اور مادھوری کو مثال مانا جائے تو تبدیلی لانے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ گذشتہ سال انھوں نے اپنے پرانے علاقے میں جاکر رہنے کا ارادہ کیا۔

Image caption لوو کمانڈوز محبت کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

چار افراد نے راجویر کو چاقو کی نوک پر روک لیا، وہ انھیں سنسان جگہ پر لے گئے راجویر کو باندھ کر خوب پیٹا گیا اور انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔

شروع میں تو پولیس نے کسی کارروائی سے انکار کر دیا پھر لوو کمانڈو کی مدد سے پولیس میں شکایت درج کی گئی۔ مادھوری کا ماننا ہے کہ یہ سب ان کے خاندان والوں نے ہی کرایا ہے۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی میں سے چالیس فیصد لوگوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔ یہاں پیار کرنا آسان نہیں ہے، لیکن اب ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ہمت کر کے وہی کرتے ہیں جو ان کے دل میں آتا ہے۔

لو کمانڈو کے لیے محبت ایک جنگ ہے اور وہ اس وقت تک اپنا یہ مشن جاری رکھیں گے جب تک وہ ایساکرنے کے اہل ہیں۔

اسی بارے میں