فصیح کی پراسرار گمشدگی، حکومت کا انکار

فصیح محمود کے اہلیہ اور سماجی کارکنان
Image caption فصیح محمود کی اہلیہ اپنے خاوند کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے پریس سے خطاب کرچکی ہیں

بھارت کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم ایک بھارتی شہری فصیح محمد کو بھارتی پولیس نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

سپریم کورٹ میں ایک مشترکہ بیان میں دونوں وزارتوں نے فصیح محمود کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے ۔فصیح کی اہلیہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کو بھارتی ایجنسیوں نے تحویل میں لے رکھا ہے اور انہوں نے عدالت عظمی میں حبس بیجا کی ایک درحواست دائر کر رکھی ہے۔

مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سولسٹر جنرل گورو بینرجی نے کہا کہ فصیح محمد بھارتی پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں حالانکہ ان کے خلاف مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔

فصیح محمد کا تعلق ریاست بہار سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے انجینیئر ہیں۔ وہ سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔ان کی اہلیہ نکہت پروین کے مطابق انہیں تیرہ مئی کو سعودی عرب کے جبیل شہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جو اہلکار ان کے گھر پر آئے تھے ان میں دو بھارتی اہلکار بھی شامل تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ بعض معاملات میں ان سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں بھارت بھیجا جا رہا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فصیح محمود کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انکے بیٹے کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے

تیرہ مئی سے فصیح پراسرار طریقے سے لاپتہ ہیں لیکن ان کے بارے میں بھارتی اخبارات ایجنسیوں کے حوالے سے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کی طرح طرح کی خبریں شائع کرتے رہے ہیں۔

نکہت کے وکیل نوشاد احمد خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ فصیح کی حراست مکمل طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ انہیں تیرہ مئی کو حراست میں لیاگیا اور اس کے سترہ دن بعد ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا گیا۔

’اقوام متحدہ کے چارٹر اور باہمی معاہدوں کے تحت عبوری اور مستقل دونوں طرح کی حراستوں کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنا ضروری ہے ۔ اس کے بغیر کسی شخص کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔‘

نوشاد نے کہا کہ فصیح جس کسی کی بھی تحویل میں ہیں وہ غیر قانونی ہے۔ ’یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا ایک سنگین معاملہ ہے ۔ کنونشن کے مطابق کسی بھی شخص کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ مدت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا ۔اس سے ایجنسیوں کو جھوٹے کیس بنانے کے لیے کافی وقت مل جائے گا۔‘

مسٹر نوشاد نے عدالت میں ایسے دستاویزی ثبوت پیش کیے جن کی بنیاد پر انہون نے کہا کہ فصیح کوتحویل میں لے کر بھارت بھیجا گیا ہے۔ ’ان کی کمپنی میں ان کے اکاؤنٹ کو بند کیا گیا، ان کے بقایاجات ادا کیے گئے۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف بعض الزامات ہیں جن کی جانچ ہو گی اور انہيں انڈیا بھیجا جا رہا ہے۔‘

فصیح محمود کی اکیس سالہ اہلیہ نکہت پروین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر بے قصور ہیں اور یہ حقیقت اب عیاں ہونے لگی ہے۔ ’وزیر داخلہ کچھ کہتے ہیں، وزارت خارجہ کا بیان کچھ اور ہے اور ایک انڈر سکریٹری نے کہا کہ وزارت کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے کہ فصیح کون ہے۔‘

فصیح کے بارے میں لاعلمی کے اظہار پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنگین ہے اور اس نے حکومت سے جاننا چاہا ہے کہ اگر وہ بھارتی پولیس کی حراست میں نہیں تو وہ کس کی حراست میں ہیں۔ اس کے جواب میں ایڈیشنل سولسٹر جنرل نے کہا کہ وزارت خارجہ نے سعودی حکام سے رابطہ قائم کیا ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کی تفصیلات جلد ہی حاصل ہو جائیں گی۔

عدالت عظمی نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ سعودی حکام سے اپنی بات چیت کی تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کرے ۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے پیر کا دن مقرر کیا ہے۔

اسی بارے میں