کشمیر کے سرپنچ خائف، پینتیس مستعفیٰ

کشمیر میں انتہا پسندوں کا ایک پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر کے چالیس برس کے وقفے کے بعد پنچایتی انتخابات منعقد کیے گئے تھے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں منتخب پنچ اور سرپنچ عسکریت پسندوں کی مبینہ دھکمیوں سے خائف ہوکر مستعفیٰ ہورہے ہیں۔

گزشتہ دو روز میں کم از کم سولہ پنچوں نے اخبارات کے ذریعہ 'حکومت کے ساتھ لاتعلقی' کا اعلان کیا ہے۔

اس سال جنوری سے اب تک چھتیس پنچ اور سرپنچ مستعفیٰ ہوئے، جن میں خواتین کی خاصی تعداد ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کے راج پورہ گاؤں میں بعض مقامات پر پوسٹر دیکھےگئے جو عسکری گروپ جیشِ محمد کے تھے۔ ان پوسٹروں پر پنچوں کے خلاف یہ وارننگ تحریر کی گئی تھی کہ اگر انہوں نے اخبارات کے ذریعہ استعفیٰ نہ دیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

منگل وار کو تین خواتین سمیت نو پنچوں نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ بدھ کو مزید سات افراد نے پنچایتی نظام سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

دریں اثناء بدھ کو ہی جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک نمبردار پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی جس میں وہ بال بال بچ گئے۔

قابل ذکر ہے پچھلے سال کشمیر میں چالیس برس کے وقفہ کے بعد پنچایتی انتخابات منعقد کئے گئے جن پر حکومت ہند نے سات ارب روپے کا سرمایہ خرچ کیا۔ ان انتخابات میں پوری ریاست کے اندر اُنتالیس ہزار پنچ اور سرپنچ منتخب ہوئے، جن میں خواتین کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔

دیہی ترقی کے وزیر علی محمد ساگر نے بی بی سی کو بتایا:’'ہم لوگ ان کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ کشمیر میں جمہوریت کا فروغ نہیں چاہتے۔‘

واضح رہے پنچایتی انتخابات سے قبل پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مقیم کئی عسکری گروپوں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اعلان کیا تھا کہ 'عسکری قیادت پنچایتی انتخابات کو نان ایشو سمجھتی ہے، کیونکہ اس میں منتخب ہونے والوں کو بھارتی آئین کے تحت حلف نہیں اُٹھانا پڑتا۔

پولیس ریکارڑ کے مطابق اس سال نو فروری کو جنوبی کشمیر کے دمہال ہانجی پورہ میں نامعلوم مسلح افراد نے غلام محمد ڈار نامی ایک سرپنچ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اس واقعہ کے فوراً بعد ترال قصبہ میں نذیراحمد نامی پنچ پر فائرنگ کی گئی جس میں شدید زخمی ہوگیا۔

حسینہ بیگم نامی ایک خاتون پنچ کو بھی ایسے ہی ایک حملے میں ہلاک ہوگئیں۔ پنچوں اور سرپنچوں کی ہلاکتوں، ان پر حملوں یا ان کے اغوا سے لوگوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک لاکھ بیس ہزار پولیس اہلکار ہیں، لہٰذا بڑے پیمانے پر پنچوں کو سیکورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔

اسی بارے میں