بھارت: ’شدت پسند‘ تحویل میں ہلاک

بھارت میں ایک بم دھماکے کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قتیل احمد پر بنگلور کے چنماسوامی سٹیڈیم میں ہوئے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام تھا

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کی یرودا جیل میں قید انڈین مجاہدین سے تعلق رکھنے والے مبینہ شدت پسند محمد قتیل صدیقی جیل میں مردہ پائے گئے ہیں۔

کہا جارہا ہے محمد قتیل صدیقی کی جیل میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے ایک سینئر پولیس افسر نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ہے ’قتیل کا جیل میں قتل کردیا گیا‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ قتیل کی جیل میں اپنے کسی قیدی کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے بعد اس نے قتیل کا گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا۔

محمد قتیل صدیقی پر پونے کی جرمن بیکری بلاسٹ کے علاوہ بنگلور کے چمناسوامی سٹیڈیم میں ہوئے دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ انہیں گزشتہ نومبر دلی پولیس نے مختلف بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد وہ دلی کی جیل میں قید تھے لیکن کچھ ہی روز پہلے انہیں پونے کی جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر پولیس نے قتیل کی ہلاکت کی تقتیش کے احکامات دے دیے ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا ہے کہ معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو دی گئی ہے اور حکومت نے جیل کے سپرٹنڈنٹ کی معطلی کا حکم دے دیا ہے۔

محمد قتیل صدیقی کی ہلاکت پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھانے شروع کردیے ہیں۔ جامعہ ٹیچرز سولیڈارٹی ایسوسی ایشن اور انہد نامی تنظیموں نے ایک بیان جاری کرکے مہاراشٹر کی حکومت سے سوال پوچھے ہیں کہ محمد قتیل باوجود اس کے مہاراشٹر کی جیل کے انتہائی سیکورٹی والی جیل میں قید ہونے کے باوجود کس طرح ہلاک کردیئے گئے۔

انکا مزید کہنا ہے کہ اگر جیسا کہ حکومت کہ رہی ہے کہ قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں قتیل کی موت ہوئی ہے تو جیل میں موجود کسی بھی سیکورٹی گارڈ کو اس جھگڑے کی اطلاع کیسے نہیں ملی۔

اسی بارے میں