اقلیتوں کےلیے ریزوریشن، سپریم کورٹ بھی ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے سوال پر بحث ہوتی رہی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلم اوردوسری مذہبی اقلیتوں کے لیے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ حکومت نے اس معاملے میں اپنا کام پورا نہیں کیا ہے اس لیے وہ آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناحی جاری نہیں کریگا۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت اپنے دعوں کے ثبوت میں شواہد فراہم کرے اور اس مقدمے کی اگلی سماعت کے لیے بدھ یعنی تیرہ جون کی تاریخ طے کی ہے۔

واضح رہے کہ ریاست آندھرا پردیش کی حکومت نے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے لیے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کا فیصلہ کیا تھا جسے ریاستی ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔

مرکزی حکومت نے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا جائے تاکہ جن مسلم طلباء کو اعلی اداروں میں داخلے مل چکے ہیں ان کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آخر حکومت نے کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا کہ پسماندہ طبقے کے لیے جو ستائس فیصد ریزرویشن ہے اس میں سے ساڑھے چار فیصد سیٹیں اقلیتوں کے لیے مخصوص کردی جائیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ’بغیر دستاویزات کی فراہمی کے آپ ہائی کورٹ کے فیصلے میں خامی کیسے نکال سکتے ہیں۔ آپ ( مرکزی حکومت) ستائس فیصد او بی سی کوٹے کو کیسے بریک اپ کر سکتے ہیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن حکومت نے اس معاملے کو جس طرح انداز میں طے کیا ہے اس سے وہ قطعی مطمئن نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے سخت ریمارکس میں کہا ’جس انداز سے حکومت نے اس سنجیدہ معاملے میں میمورنڈم جاری کیا اس سے ہمیں ناراضگی ہے۔ آپ کو اس معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ ہمیں خوشی ہوتی اگر اس بارے میں آپ نے اقلیتی کمیشن جیسے کسی آئینی ادارہ سے رائے لی ہوتی۔‘

مرکز کی طرف سے اٹارنی جنرل واہنوتی نے حکومت کے موقف کو پیش کیا اور کہا کہ کم سے کم ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا جائے تاکہ طلباء کا کریئر جاری رہ سکے۔

لیکن عدالت نے کہا کہ جب تک حکومت اس بارے میں دستاویزی شواہد فراہم نہیں کرتی اس وقت تک وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں سنائےگي۔

اسی بارے میں