’بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوگا‘

Image caption بھارتی معیشت کی رفتار کافی دنوں سے سست روی کا شکار ہے

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے متنبہ کیا ہے کہ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں اگر فوراً ختم نہیں کی گئیں تو سرمایہ کاری کے لیے بھارت کی ریٹنگ کم کی جاسکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق سرمایہ کاری کی ریٹنگ کم کیے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارت میں لگائی جانے والی رقم پوری طرح محفوظ نہیں ہے اور اس سے سرمایہ کاری کا ماحول شدید طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔

ایجنسی کی ریٹنگ کو کسی بھی ملک کی معاشی صحت کی رپورٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بھارت کی ریٹنگ پہلے ہی سرمایہ کاری کے لحاظ سے آخری پائیدان پر ہے۔

سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے بھارتی معیشت پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس کے عنوان میں ہی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ’ کیا برک ممالک میں بھارت کی معیشت سب سے پہلے لڑکھڑائے گی؟‘

برک ممالک کی تنظیم میں بھارت کے علاوہ برازیل، روس اور چین شامل ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک میں پالیسی سازی سیاسی دشواریوں کی نذر ہو رہی ہے اور ملک کی قومی مجموعی پیداوار سست پڑ رہی ہے۔ لیکن ایسے دوسرے اور بھی کئی عوامل ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی ریٹنگ کم کی جاسکتی ہے۔

لیکن بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ وہ اس پیشن گوئی سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ترقی کی رفتار ضرور توقع سے زیادہ سست رہی لیکن اپریل دو ہزار بارہ کے بعد سے ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کے بھارتی معیشت کے لیے خطرہ بڑھا ہے۔’

بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ترقی کی رفتار سب سے زیادہ یورو زون کے بجران کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ لیکن ملک میں حزب اختلاف اور سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز کا بھی کہنا ہے کہ حکومت نے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ ہفتے ہی ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا کہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے مالیت کے پراجیکٹوں پر تیزی سے عمل کیا جائےگا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’ایک زیادہ آزاد معیشت کی راہ میں حائل رکاوٹیں اگر ختم نہیں کی گئیں تو بھارتی معیشت کی طویل مدتی ترقی کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں اور اس وجہ سے اس کی ریٹنگ بھی۔‘

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے کچھ نیا نہیں کہا ہے اور تقریباً یہی بات اس نے اپریل میں بھی کہی تھی۔ لیکن ان کے مطابق بازار میں رجحان بہت منفی ہے اور جب اس طرح کے تجزیہ آتے ہیں تو سرمایہ کار اور ڈر جاتے ہیں۔

بھارت کی موجودہ ریٹنگ ’بی بی بی مائنس ہے‘ یعنی سرمایہ کاری کے لیے سب سے نچلے سطح کی ریٹنگ ہے۔ اپریل میں ایجنسی نے بھارت میں سرمایہ کاری کے ماحول پر اپنا تجزیہ مستحکم سے منفی میں تبدیل کردیا تھا۔

اس لحاظ سے برک ممالک میں بھارت کی ریٹنگ سب سے خراب ہے۔ ایجنسی کا خیال ہے کہ موجودہ مالی سال میں بھارتی معیشت چھ اعشاریہ دو فیصد کی رفتار سے ترقی کرے گی۔ حکومت کا ہدف تقریباً سات فیصد ہے لیکن گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں یہ رفتار صرف پانچ اعشاریہ تین فیصد تھی، یعنی نو برسوں میں سب سے خراب۔

ایس اینڈ پی کا کہنا ہےکہ حکومت کو اقتصادی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر زور دینا چاہیے تاکہ ترقی کی رفتار کو بحال کیا جاسکے۔ گزشہ چند مہینوں میں حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے لیکن اتحادی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔

اسی بارے میں