صدارتی انتخاب: پرنب مکھرجی امیدوار نامزد

پرنب مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرنب مکھرجی لمبے وقت سے سیاست میں سرکردہ کردار ادا کررہے ہیں

بھارت میں حکمراں یو پی اے نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی سخت مخالفت کے باوجود وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو صدر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

اترپردیش کی حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے بھی مسٹر مکھرجی کی امیدواری کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد اب مسٹر مکھرجی کا صدر بننا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔

پرنب مکھرجی کا شمار ملک کے سب سے تجربہ کار سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے اور وہ تقریباً چالیس برس سے پارلیمان کے رکن ہیں اور وزارت خزانہ سے قبل وہ دفاع، خارجہ، اور تجارت کی وزاروں کی ذمہ داری بھی سمبھال چکے ہیں۔

پرنب مکھرجی کو حکومت میں دوسرا سب سے طاقتور مقام حاصل ہے اور انہیں یو پی ایے کا ’چیف ٹربل شوٹر’ کہا جاتا ہے یعنی جب بھی کوئی بحران ہوتا ہے تو صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

ان کے صدر بننے کی صورت میں وفاقی کابینہ میں کئی تبدیلیوں کی ضرورت پیش آئے گی۔

دلی میں حکمراں یو پی اے کےاجلاس میں اتحاد کی چئر پرسن سونیا گاندھی نے ان کی امیدواری کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption پرنب مکھرجی اور حامد انصاری صدر کے عہدے کے لیے یو پی اے کے اہم امیدوار بتائے جارہے تھے

لیکن مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کسی بھی قیمت پر ان کی امیدواری منظور کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس حکمراں اتحاد میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اب وہ یو پی اے سے اپنا تعلق ختم کرسکتی ہیں جس سے وفاقی حکومت اقلیت میں آجائے گی۔

ترنمول کانگریس کے انخلا کے باجود حکومت کے گرنے کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ اتردیش کی دونوں بڑی جماعتیں، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی باہر سے یو پی ایے حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔

بدھ کی شام سماجوادی پارٹی کے سربراہ مسٹر ملائم سنگھ یادو نے ممتا بنرجی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تین امیدواروں کی ایک علیحدہ فہرست جاری کی تھی جس سے یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی کہ اگر ممتا بنرجی اور ملائم سنگھ یادو دونوں ہی مخالفت میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو وفاقی حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

لیکن جمعہ کی شام مسٹر ملائم سنگھ نے مسٹرمکھرجی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں وقت کے ساتھ فیصلے بدل جاتے ہیں۔

بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے فی الحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

بتایا جاتا ہےکہ سابق صدر اے پی جے عبدالکلام اب انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے بعد یہ قیاس آرائی بھی جاری ہے کہ این ڈی اے بھی نائب صدر کے عہدے کے عوض مسٹر مکھرجی کی حمایت کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

وہیں ذرائع ابلاغ کے مطابق سماج وادی پارٹی نے بھی پرنب مکھرجی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ابھی سماج وادی پارٹی کی جانب سے اس بارے میں باقاعدہ کوئی بیان نہیں آیا۔

سونیا گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام سیاسی حلقوں کو پرنب مکھرجی کی حمایت کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکمران این ڈی اے نے صدر کے انتخاب پر صلاح مشورے کے لیے آج صبح ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن اس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپنی حکمت عملی کا اعلان کرنے سے قبل یو پی اے کی جانب سے امیدوار کے اعلان کا انتظار کیا جائے۔ این ڈی اے اور ممتا بنرجی سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کو امیدوار بنانے کے حق میں ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ اے پی جے عبدالکلام اس وقت تک میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں جب تک ان کی کامیابی یقینی نہ ہو۔

اگر بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو نے پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کردیا تو اس بات کا کافی امکان ہے کہ باقاعدہ الیکشن کی ضرورت پیش نہ آئے۔

اسی بارے میں