معطل جج کا بیٹا اور ایک سابق جج گرفتار

گالی جناردن ریڈی (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گالی جناردن ریڈی پر ‏غیرقانونی کان کنی اور ضمانت کے لیے رشوت دینے کا الزام ہے۔

حیدرآباد میں بدعنوانی کی روک تھام کرنے والے ادارے نے لوہے کی غیر قانونی کان کنی کے معاملے میں ملزم اور کرناٹک کے سابق وزیرگالی جناردن ریڈی کو رشوت کے عوض ضمانت فراہم کرنے کے معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق وزیر ریڈی کو ضمانت دینے والے معطل جج پٹّابھی راما راؤ کے بیٹے روی چاند اور ایک ریٹائرڈ جج چلپتی راؤ شامل ہیں۔

اس معاملے میں بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے ملزم جج اور دیگر نو افراد کے خلاف پہلے ہی مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس سے قبل مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے اس بات کا پتہ لگایا تھا کہ مئی کے مہینے میں جناردن ریڈی کو ضمانت دلانے کے لیے سی بی آئی کی عدالت کے جج کو دس کروڑ روپے رشوت کی شکل میں دیے گئے تھے۔

بعد میں سی بی آئی نے اس معاملے کی تفتیش اینٹی کرپشن بیورو کے حوالے کر دی تھی۔

سنیچر کو اینٹی کرپشن بیورو نے حیدرآباد میں پٹّابھی راماراؤ کے گھر کی تلاشی لی اور ان کے بیٹے روی چاند کو گرفتار کر لیا۔

بعد میں انہیں بینک لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر انھوں نے رشوت میں ملی رقم لاکر میں رکھی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ رقم وہاں نہیں پائی گئی۔

Image caption گالی جناردن ریڈی پر غیر قانونی کان کنی کا بھی الزام ہے۔

سی بی آئی اس معاملے میں پہلے ہی پانچ کروڑ سے زیادہ رقم ضبط کر چکی ہے۔

اینٹی کرپشن بیورو کی ایک دوسری ٹیم نے گنٹر ضلعے کے چلکلوریپیٹ میں چلپت راؤ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کر لیا۔

دوسری ٹیم گالی کے بھائی سوم شیکھر کے گھر کی تلاشی کی خاطر بیلاری گئي ہوئی ہے۔

اس رشوت ستانی کا پورا معاملے اس وقت سامنے آیا جب سی بی آئی نے آندھر پردیش ہائی کورٹ کی اجازت سے جج کی فون پر ہونے والی بات چیت سنی۔

سی بی آئی کی شکایت پر ہائی کورٹ نے جج کو معطل کر دیا اور گالی جناردن ریڈی کی ضمانت کو کلعدم قرار دیا۔

گزشتہ سال گرفتار کیے گئے جناردن ریڈی فی الحال کرناٹک ریاست کے دارالحکومت بنگلورو کی جیل میں قید ہیں کیونکہ کرناٹک کے بلاری ضلعے میں غیرقانونی کان کنی کا ایک مقدمہ ان پر چل رہا ہے۔

اسی بارے میں