ممتا بنرجی کی مخالفت، واپسی کا راستہ مشکل

ممتا بنرجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرنب مکھرجی سے ممتا بنرجی کی رقابت پرانی ہے

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ ایک سال میں سیاست کی بلندیوں کو چھوا اور اب شاید یہ سوچ رہی ہوں گی کہ اس کوئیں سے کیسے باہر نکلا جائے جو گزشتہ چند دنوں میں انہوں نے خود اپنے لیے کھودا ہے۔

حکمراں یو پی اے میں شامل ہونے کے باوجود کانگریس کے صدارتی امیدوار پرنب مکھرجی کی مخالفت کو انہوں نے کچھ اس انتہا تک پہنچا دیا کہ اب ان کے لیے واپسی کا راستہ تقریباً بند ہی مانا جا رہا ہے۔

اگر وہ لوٹتی ہیں تو ان کا سیاسی قد اور یو پی اے میں وزن بہت گھٹ جائے گا اور اگر حکمران اتحاد کو خیر باد کہتی ہیں تو ریاست میں اپنی حکومت چلانا اور مشکل ہوجائے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی بنگال کی معیشت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور ممتا بنرجی وہاں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی ایک اقتصادی پیکج کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن ان کے سیاسی بلیک میل کے باوجود وزیر خزانہ پرنب مکھرجی امدادی پیکج کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

پرنب مکھرجی سے ممتا بنرجی کی رقابت پرانی ہے۔ وہ مانتی ہے ہیں کہ اسی کےعشرے میں پرنب مکھرجی نے انہیں مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نوجوان رہنما کے طور پر ابھرنے سے روکا تھا۔ اس وقت ممتا بنرجی کانگریس میں تھیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنی علیحدہ پارٹی بنا لی تھی۔

بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے انہیں خوشی سے گلےلگائے گا لیکن مغربی بنگال کے اسمبلی کے انتخابات میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں ممتا بنرجی کا ساتھ دیا تھا، لہذا بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔

ممتا بنرجی کی عمر ستاون برس ہے۔ اس سال ٹائم میگزین نے انہیں دنیا کی سو طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ گزشتہ برس انہوں نے دنیا کی سب سے پرانی جمہوری طور پر منتخب کمیونسٹ حکومت کا تختہ پلٹ کر تاریخ رقم کی تھی لیکن مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سمبھالنے کے بعد سے وفاقی حکومت کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں۔

جب وفاقی حکومت میں ان کے اپنے نمائندے دنیش ترویدی نے وزیر ریل کی حیثیت سے کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا تو انہوں نے مسٹر ترویدی کو ہی برخاست کر دیا۔ اور جب بھی حکومت معیشت کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے کوئی بڑا فیصلہ کرتی ہے، چاہے وہ کثیر قومی کمپنیوں کو ملک میں سوپر مارکٹس کھولنے کی اجازت دینے کا سوال ہو یا پنشن فنڈ میں اصلاحات کا، ممتا بنرجی سختی سے ہر تجویز کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔

لیکن اس مرتبہ ہوا کا رخ پہچاننے میں ان سے بھول ہوگئی۔ سونیا گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ کے درمیان خفیہ ملاقات کے بعد ہی پرنب مکھرجی کی امیدواری کا اعلان کیا گیا جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ کانگریس اب ممتا بنرجی کے انخلاء کے لیے تیار ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ ممتا بنرجی کے جانے سے حکومت کو ان اقتصادی اصلاحات پر عمل کرنے کا موقع ملے گا جو لڑکھڑاتی ہوئی بھارتی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے ضروری بتائے جارہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے بھی اس بارے میں کوئی واضح عندیہ نہیں دیا ہے کہ ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ وہ اب بھی سابق صدر اے پی جےعبدالکلام کو میدان میں اتارنے پر بضد ہیں اور اس کے لیے انہوں نے فیس بک پر ملک کے عوام سے ایک اپیل جاری کی ہے۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ نہ ملک کے عوام صدارتی انتخاب میں براہ راست ووٹ ڈالتے ہیں اور نہ اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

فیس بک پر ان کی اپیل سے یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ فی الحال ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حمایت کے بعد اب پرنب مکھرجی کے علاوہ کسی دوسرے رہنما کے صدر بننے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

جمعہ کی شام پرنب مکھرجی کی امیدواری کے اعلان کے بعد ممتا بنرجی نے کلکتہ میں کہا تھا کہ’ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے‘' ہوسکتا ہے کہ کھیل ابھی باقی ہو لیکن نتیجے کے بارے میں اب کسی کو کوئی شبہہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں