’صدارتی امیدوار پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا‘

این ڈے کے ممبران تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption اتوار کو ہونے والے اجلاس میں شیو سینا نے شرکت نہیں کی

بھارت میں حزب اختلاف کے اتحاد این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ میں صدارتی انتخاب کے امیدوار پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے اور اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مزید صلاح و مشورہ کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے این ڈی اے کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آيا وہ حکمراں محاذ یو پی اے کے امیدوار پرنب مکھرجی کی حمایت کرےگا یا خود اپنا امیدوار کھڑا کرےگا۔

اس دوران این ڈي اے کی ایک اتحادی جماعت نے پارلیمان کے سابق سپیکر پورنو سنگما کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو این ڈی اے کا ایک اجلاس ہوا جو کہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں این ڈی اے کی ایک اہم سیاسی جماعت شیو سینا نے حصہ نہیں لیا۔

اس اجلاس کے بعد این ڈی اے کے ترجمان شرد یادو نے صحافیوں کو بتایا صدارتی امیدوار کے بارے میں فیصلہ لینے کے لیے این ڈی اے کا ایک اور اجلاس ہوگا اور اس بارے میں این ڈی اے کے وزراء اعلی اور دیگر جماعتوں سے بات کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے آڈوانی سے بات کرنی ضروری ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فیصلہ ایل کے آڈوانی پر چھوڑ دیا گیا تو ان کا کہنا تھا ’وہ بھی بات کریں اور ہم بھی‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ اتوار کو ہونے والے اجلاس میں صرف صدارتی امیدوار کے بارے میں بات ہوئی ہے جو کہ بےنتیجہ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں نائب صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

اس طرح کی قیاس آرائیاں ہیں کہ این ڈی اے پرنب مکھرجی کی حمایت کرسکتا ہے لیکن بعض رپورٹس کے مطابق سابق صدر اے پی جے ابولکلام ابھی بھی این ڈی اے کے امیدوار ہیں اور انہوں نے ابھی تک اپنا نام واپس نہیں لیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو حکمراں یو پی اے نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی سخت مخالفت کے باوجود وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو صدر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بنانے کا اعلان کردیا تھا۔

اترپردیش کی حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے بھی پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد اب ان کا صدر بننا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔

پرنب مکھرجی کا شمار ملک کے سب سے تجربہ کار سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے اور وہ تقریباً چالیس برس سے پارلیمان کے رکن ہیں اور وزارت خزانہ سے قبل وہ دفاع، خارجہ، اور تجارت کی وزاروں کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔

پرنب مکھرجی کو حکومت میں دوسرا سب سے طاقتور مقام حاصل ہے اور انہیں یو پی ایے کا ’چیف ٹربل شوٹر’ کہا جاتا ہے یعنی جب بھی کوئی بحران ہوتا ہے تو صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

ان کے صدر بننے کی صورت میں وفاقی کابینہ میں کئی تبدیلیوں کی ضرورت پیش آئے گی۔

اسی بارے میں