بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی

کریڈٹ ریٹنگ
Image caption بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی ہوئی ہے۔

دنیا کی معیشتوں کے حالت کا تجزیہ کرنے والے عالمی ادارے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کر دی ہے اور اسے مستحکم کے زمرے سے نکال کر منفی کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔

اس سے قبل اس ایجنسی نے بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم بتایا تھا لیکن تازہ جاری ریٹنگ میں فچ نے اسے منفی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ دو ماہ قبل فچ کی حریف تنظیم بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے متنبہ کیا تھا کہ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں اگر فوراً ختم نہیں کی گئیں تو سرمایہ کاری کے لیے بھارت کی ریٹنگ کم کی جاسکتی ہے۔

اس تجزیے کے بعد بھارت کے حصص بازاروں میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔

پیر کو جاری ایک بیان میں فچ نے کہا ہے ’مالی پالیسی میں خاطر خواہ ڈھیل کے نتیجے میں بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہو جائے گی اور اس کے مجموعی حکومتی قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب میں اضافہ ہو جائے گا۔‘

اس ایجنسی نے مارچ میں مالی سال کے اختتام پر حکومت ہند کے قرض کا تخمینہ لگایا ہے جس کی رو سے یہ ملک کی مجموعی پیداوار کا چھیاسٹھ فی صد تک ہوسکتا ہے۔

ایجنسی کی ریٹنگ کو کسی بھی ملک کی معاشی صحت کی رپورٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بھارت کی ریٹنگ پہلے ہی سرمایہ کاری کے لحاظ سے آخری پائیدان پر تھی۔

بھارت کی معاشی ترقی کی شرح مارچ کی سہ ماہی میں صرف پانچ اعشاریہ تین فیصد رہی جوکہ گذشتہ نو برسوں میں سب سے کم ہے۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ بھارت کا ریزور بینک اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھائے گا لیکن امید کے برخلاف اس نے شرح سود کو التوا پر رکھ دیا جس کے نتیجے میں بانڈز، حصص اور روپے کی قیمت میں کمی آئی۔

ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں مزید کمی آئی اور فچ کے بیان سے قبل یہ پچپن اعشاریہ آٹھ تین سے پچپن اعشاریہ نو چار ہو گئی۔

فچ نے کہا ہے ’بھارت میں سرمایہ کاری کو تنظیمی چیلنجز کا بھی سامنا ہے جس میں بدعنوانی اور غیرمناسب معاشی اصلاحات شامل ہیں۔‘

ایک ہفتے قبل سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے کہا تھا کہ برک ممالک (ان میں بھارت کے علاوہ برازیل روس اور چین بھی شامل ہیں) میں بھارت پہلا ملک ہوگا جو اپنی سرمایہ کاری کا معیار کھو دے گا۔

اسی بارے میں