کشمیر:مسلح کارروائیوں میں پولیس ملوث؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر پولیس پر شدت پسندوں کا ساتھ دینے کا الزام ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے بعض مسلح حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہیں جب حکومت کہتی ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔

ادھر سخت گیر مؤقف رکھنے والے علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغنوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وادی کے نوجوان دوبارہ مسلح تحریک چھیڑ دیں گے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقامی پولیس کے مطابق اس کے بعض اہلکاروں نے سینئیر پولیس افسروں کو اعتماد میں لیے بغیر وادی میں ایسی مسلح کاروائیاں کی ہیں جن کے بارے میں ابھی تک یہ شبہ تھا کہ وہ مسلح گروپوں نے انجام دی ہیں۔

اس سلسلے میں پولیس نے چار اہلکاروں کی گرفتاری کا اعتراف کیا ہے جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

وسطی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل افہاد المجتبیٰ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں مسلح گروپ حزب المجاہدین کے ایک عسکریت پسند کے گھر پر مسلح حملے کی تحقیقات کے دوران یہ راز کُھلا کہ کچھ پولیس اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے بنائے ہیں اور وہ مسلح تشدد کی کاروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔

انہوں نےاعتراف کیا کہ عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے تحت پولیس اہلکاروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے مسلح گروپوں میں شامل ہونے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کیےگئے اہلکاروں نے بعض مسلح تنظیموں میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور بعد میں انہوں نے کچھ کاروائیوں میں حصہ بھی لیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ چند ہفتے قبل سرینگر میں سی آر پی ایف اہلکاروں پر ہوئی فائرنگ اور تشدد کے دیگر واقعات میں ان ہی لوگوں کا ہاتھ ہے۔

لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوپایا کہ ان اہلکاروں نے سینیئر پولیس افسروں کے کہنے پر ایسا کیا یا وہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی مجتبیٰ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پولیس اکثر معلومات حاصل کرنے کی غرض سے اپنے اہلکاروں کو عسکری تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے کہتی رہی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تفتیش کا کام نہایت سست رفتاری سے ہورہا ہے۔ کچھ حلقوں کو خدشہ ہے کہ تفتیش آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ اس حساس معاملہ میں بعض افسروں کے ملوث ہونے کو خارج از امکان نہیں قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

یہ معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کہتی ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور پاکستان میں مقیم سابق عسکریت پسند بیوی بچوں سمیت واپس لوٹ رہے ہیں۔

دریں اثنا کشمیر کو بھارتی فوج کے ناجائز قبضے کا مسئلہ کہنے والے علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے پیر کے روز کہا کہ اگر نوجوانوں کی گرفتاریوں اور علیٰحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغنوں پر پابندیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو کشمیر میں اُسی طرز کی مسلح شورش دوبارہ شروع ہوگی جو اُنیس سو نوّے میں برپا ہوئی تھی۔

ان کا کہنا ہے ’نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ وہ لوگ تنگ ہیں اور ہمارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ زیادہ دیر تک یہ صورتحال ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے۔‘

مسٹر گیلانی نے حکومت ہند پر الزام عائد کیا کشمیر میں عدالتی نظام کو فوج اور پولیس کے تابع رکھا گیا ہے۔ ’جب ناانصافیوں کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو فوج اور پولیس کی طرف سے انہیں ہدایت دی جاتی ہے اور متاثرین کی فریاد کو نظرانداز کیا جائے۔‘

قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو نوّے کی مسلح شورش کے دوبارہ کشمیر پولیس نے بغاوت کرکے بھارت مخالف مظاہرے کیے تھے جس کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر پر فوج نے چڑھائی کردی اور کئی افسروں اور اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔

اسی بارے میں