وزارت عظمیٰ کیلیے آر ایس ایس مودی کی حامی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نتیش نے مودی کو وزارت عظمی کے لیے مسترد کر دیا

بھارت میں صدارتی انتخابات کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل قومی جمہوری محاذ این ڈی اے میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

گر چہ اس تنازعہ کا تعلق اگلے وزیراعظم کے حوالے سے ہے لیکن صدارتی انتخابات کے حوالے سے این ڈی اے کا جو اجلاس بدھ کو ہونا تھا اسے بھی ملتوی کر دیا گيا ہے۔

اس دوران بی جے پی کی حامی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس کے) نے جنتادل یونائیٹڈ کے رہنما اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے ایک بیان میں کہا ’ کیا یہ فیصلہ نتیش کمار کریں گے کہ کس قسم کا شخص بہتر وزیراعظم ہوگا؟‘

نتیش کمار نے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے لیے مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے لیے کسی ایسے شخص کا نام وزارت عظمیٰ کے لیے تجویز کرے جو سکیولر شبیہ کا مالک ہو اور ملک کے سبھی طبقے اسے تسلیم کرتے ہوں۔

واضح رہے کہ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یو این ڈی اے کی ایک اہم حلیف جماعت ہے اور بہار میں وہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد سے اقتدار میں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کو چاہیے کہ انتخابات سے پہلے ہی وہ امیدوار کا نام جاری کرے تاکہ عوام آگاہ رہیں کہ وہ کسے وزیراعظم بنانا چاہتی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ آخر ہندوئیت کی شناخت رکھنے والا ایک شخص اس ملک کا وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتا ہے۔

اس بیان کے جواب میں جنتادل یو کے رہنما شوا نند تیواری نے کہا ’سکیولرازم کے نام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، چاہے ہم حکومت میں رہیں یا نہ رہیں‘۔

اس کے جواب میں بی جے پی کے ترجمان بلبیر پنچ نے کہا ہے کہ نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی اور اڈوانی ہی کی طرح بی جے پی کے اہم رہنما ہیں۔ ’ہمیں کسی سے بھی یہ سبق نہیں لینا ہے کہ سکیولرازم کیا ہے۔‘

ایسے اشارے ملتے رہے ہیں کہ بی جے پی آئندہ عام انتخابات سے قبل نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے سامنے لانے والی ہے لیکن اتحادی جماعت جے ڈی یو کے رہنما نتیش کمار اور مودی سے نہیں بنتی ہے۔

دونوں اتحادی جماعتوں میں آئندہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے تعلق سے اختلافات ابھر کر ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب صدارتی امیدوار کے انتخاب پر سیاسی گہما گہمی زوروں پر تھی۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی نتیش کمار کو منانے میں لگی ہوئي تھی کہ یہ نیا مسئلہ آ کھڑا ہوا۔ ادھر این ڈي اے کی ایک دوسری اتحادی جماعت شیو سینا نے پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جے ڈی یو بھی پرنب مکھرجی کی حمایت کرنے کے حق میں ہے لیکن چونکہ ابھی صلاح و مشورہ جاری ہے اس لیے وہ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہی۔

بی جے پی چاہتی تھی کہ وہ پرنب مکھرجی کے مقابلے میں اپنا امید وار کھڑا کرے لیکن اب اس کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں