ممبئی حملوں کا ایک اور مشتبہ ملزم گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممبئی پر حملے میں تقریبا پونے دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے

بھارتی خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آ‌ف انڈیا‘ کے مطابق دلی کی پولیس نے ممبئی حملوں میں ملوث ایک مشتبہ شدت پسند کو دلی ائر پورٹ سےگرفتار کیا ہے۔

سرکاری ویب سائٹ دُور درشن کے مطابق گرفتاری کے بعد اس مذکورہ شخص کو عدالت میں بھی پیش کیا گيا۔

گرفتار ملزم کا نام سید ذبیح الدین عرف ابو حمزہ عرف ابو جندال عرف انصاری بتایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق گرفتاری اکیس جون کو اس وقت عمل میں آئی تھی جب مذکورہ شخص خلیج کے ایک ملک سے دلی ایئر پورٹ پر پہنچا۔

دلی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جلد ہی پریس کانفرنس کی جائیگي۔

لیکن محکمۂ پولیس کے کسی افسر یا دلی میں وزارت داخلہ کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق مذکورہ شخص کا تعلق بھارتی ریاست مہاراشٹر سے ہے لیکن ممبئی پر حملوں کے دوران وہ پاکستان میں موجود تھے اور حملہ کرنے والوں سے رابطے میں تھے۔

نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئي پر ہوئے حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس سے متعلق پیر کی صبح سے ہی طرح طرح کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سید ذبیح الدین نے پاکستان میں رہ کر پاکستانی حملہ آوروں کو ہندی سکھائی تھی۔

پی ٹی آئی نے تفتیش کرنے والے افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کے دوران حملہ آوروں سے ہینڈلرز کی جو بات چيت ہوئي وہ آواز ذبیح الدین کی ہی ہے اور اس کے نمونے جانچ کے لیے بھیجےگئے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہے کہ حملوں میں ملوث اجمل امیر قصاب کے بعد یہ دوسری ایسی گرفتاری ہے جس سے حملے کے متعلق مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

سید ذبیح الدین عرف ابو حمزہ عرف ابو جندل عرف انصاری کا تعلق لشکرطیبہ سے بتایا جاتا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت کو ان کی شدت سے تلاش تھی۔

ان کا تعلق ریاست مہاراشٹر میں ضلع بیڈ کے ایک گاؤں جیوریہ سے بتایا جاتا ہے اور وہ دو ہزار چھ میں ممبئی پر ہوئے حملے میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔

اسی بارے میں