بھارت: خودکشی اموات کا دوسرا بڑا سبب

Image caption خود کشی کرنے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں

بھارت میں خودکشی کی شرح انتہائی گمبھیر شکل اختیار کر رہی ہے اور ایک بین الاقوامی مطالعے کے مطابق بھارت میں ہر برس ایک لاکھ ستاسی ہزار افراد خودکشی سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔

خودکشی بھارت میں ٹریفک حادثوں میں ہلاکتوں کے بعد موت کا دوسرا سب سے بڑا سبب بن گئی ہے۔

خودکشی کرنے والوں کی اکثریت نوجوان لوگوں کی ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیاہے کہ اگر حکومت نے خود کشیاں روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے تو یہ ملک میں اموات کا سب سے بڑا سبب بن جائے گی۔

امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے زیر اہتمام کیےگئے ایک ملک گیر مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ 2010 میں بھارت میں ایک لاکھ ستاسی ہزار افراد خودکشی سے موت کا شکار ہوئے ۔

مطالعے سے منسلک سکول آف پبلک ہیلتھ چنڈی گڑھ کے پروفیسر جے ایس ٹھاکر کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والوں کی اکثریت 15 سے 29 برس کے نوجوان لوگوں کی ہے۔

برطانیہ کے طبی جریدے ’لینسیٹ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے خودکشی کرنے والے چالیس فیصد افراد کا تعلق بھارت کی چار جنوبی ریاستوں سے ہے۔

لنڈن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپکل میڈیسین کے ڈاکٹر وکرم پٹیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان ریاستوں میں خودکشی کی اونچی شرح کا گہرائی سے ابھی تک کوئی مطالعہ نہیں کیا گیا ہے لیکن ابتدائی اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان تعلیم یافتہ لوگوں میں مایوسی اور ناکامی خود کشی کا ایک بڑا سبب ہے۔

ڈاکٹر جے ایس ٹھاکر کہتے ہیں: ’جنوبی ریاستوں میں خودکشی سے موت کے تصور کو عمومی قبولیت حاصل ہے اور ساتھ ہی جنوب میں خود کشی کے لیے بڑے پمیانے پر کیڑے مار دواؤں کا استعمال ہوتا ہے جو آسانی سے ہر جگہ دستیاب ہیں۔‘

مطالعے کے مطابق دیہی اور شہری علاقوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں خودکشی کرنے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں صرف کسان ہی نہیں دوسرے طبقے کے بھی لوگ بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر پٹیل کہتے ہیں کہ ’ کسان تو ہیں ہی خطرے والے گروپ میں لیکن خود کشی کرنے والوں میں ان لوگوں کی تعداد کسانوں سے زیادہ ہے جو تعلیم یافتہ ہیں اور جو بے روزگار ہیں یا جنہیں تعلقات میں دشواریوں کا سامنا ہے۔‘

دلی کے میکس ہسپتال میں شعبۂ نفسیات کے سربراہ سمیر ملہوترا نے نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجانات کی وضاحت کرتے ہوئے بی بی سی کوبتایا کہ نوجوانی زندگی کا سب سے پروڈکٹیویو وقت ہوتا ہے اور انہیں برسوں میں انسان ہر طرح کے دباؤ سے گزر رہا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ’ساتھ ہی بہت سی ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں، ڈپریشن ہے، موڈ ڈس آرڈر ہے، پرسنالٹی ڈس آرڈر یا اسکیزو فرینیا جیسی بیماریاں ہیں جو اسی عمر میں ابھرتی ہیں۔‘

ڈاکٹر ملہوترا کہتے ہیں یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایسے شخص کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس شخص کے منفی خیالات اور موت کے رجحان کو بدلا جا سکے۔ بازار میں بہت سی دوائیں بھی موجود ہیں جو ذہنی بیماریوں کا موثر علاج کرتی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں خودکشی کی صورتحال اتنی گمبھیر ہونے کے باوجود ملک گیر سطح پر ابھی تک اس کے اسباب جاننے اور اسے روکنے کے منظم اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور سری لنکا جیسے ممالک کے تجربات سے بھارت میں بھی خودکشیوں کے واقعات میں خاصی کمی کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں