کابل جائیں:انڈیا کی اپنی کمپنیوں کو ہدایت

ایس ایم کرشنا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرمایہ کاری سے افغانستان مستحکم ہوگا: بھارتی وزيرخارجہ

بھارت نے اپنے ملک کی نجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کریں جہاں کم خرچ آئےگا اور اس سے ملک مستحکم ہوگا۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے دو ہزار چودہ میں نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں سرمایہ کاری سے متعلق تشویش کو تسلیم کیا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں ایک ساتھ مل کر یہ کام کریں تو اچھی سکیورٹی مہیا ہو سکتی ہے۔

افغانستان میں نجی سرمایہ کاری پر حوصلہ افزائی کرنے کے لیے دلی میں بھارت کی طرف سے بلائي گئي کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’انخلاء کے سبب گھبراہٹ، بے یقینی، عدم استحکام اور بیرونی مداخلت سے مقابلے کے لیے ہمیں بہت سے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سرمایہ کاری مستقبل میں روزگار، تربیت اور مواقع کے لیے امید افزا ثابت ہوگي۔ ہم اپنی صنعتوں سے افغانستان میں ایک ساتھ مل کر افغانیوں کی شراکت سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائي کرتے ہیں۔‘

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے اور اپنے محلِ وقوع کے اعتبار سے توانائي کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

دو ہزار ایک میں طالبان کے دور اقتدار کے خاتمے سے پہلے تک افغانستان میں پاکستانی تجارت کا بول بالا تھا اور سب سے زیاد رسائی اسی کو حاصل تھی۔

اب افغانستان میں بھارت کی بڑھتی موجودگي سے پاکستان کو کافی تشویش ہے۔

چین نے بھی افغانستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی ہے لیکن سکیورٹی کے مسائل کے سبب اس سمت میں ابھی تک کوئي خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

افغانستان میں سکیورٹی کی خراب حالت اور تشدد اس برس اپنے عروج پر ہے۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ جب دو ہزار چودہ میں بیرونی افواج واپس چلی جائیں گی تو ملک کے بعض علاقوں میں پھر سے خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔

ایسی صورت حال میں بھارت کو تشویش یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کے جانے کے بعد شدت پسند اسے نشانہ نا بنانا شروع کر دیں۔

بھارت افغانستان میں اربو ڈالر پہلے ہی لگا چکا ہے اور حال ہی میں اس نے افغانستان سے اشیاء کی درآمدات پر بھی کافی چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں