چھتیس گڑھ: ’سترہ باغی ہلاک‘

ماؤ نواز باغی (فائل فوٹو)
Image caption سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان مقابلہ دانتے واڑہ کے جنگلات میں ہوا

بھارت کی مشرقی ریاست جھتیس گڑھ میں نیم فوجی دستوں نے ایک خاتون سمیت کم سے کم سترہ ماؤ نواز باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مرکزی پولیس فورس سی آر پی ایف اور مشتبہ باغیوں کے درمیان دانتے واڑہ کے گھنے جنگلات میں رات بھر زبردست مقابلہ ہوا جس میں چھ جوان بھی زخمی ہوئے۔ یہ علاقہ بیجاپور ضلع میں ہے۔

لیکن بیجاپور سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی لوگوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہےکہ مارے جانے والے لوگ عام گاؤں والے تھے۔ تاہم ضلع کے پولیس سربراہ پرشانت اگروال کے مطابق مرنے والوں میں کچھ باغی ہیں اور باقی ان کے ہمدرد۔ آخری اطلاعات آنے تک بارہ لاشوں کی شناخت کرلی گئی تھی۔

ریاست کے دارالحکومت رائے پور سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے یہ مقابلہ سکیورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ہوا جس میں تین سو سے زیادہ جوانوں نے حصہ لیا۔

چھتیس گڑھ کے ایڈشنل ڈائرکٹر جنرل رام نواس نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ سترہ لاشیں جمع کی جاچکی ہیں اور جائے وقوعہ کے آس پاس کے جنگلات میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔ دیگر غیر تصدیق شدہ اطلاعات میں مرنےوالوں کی تعداد بیس بتائی گئی ہے۔ سی آر پی ایف کے ایک اہلکار کے مطابق تین زخمی باغیوں کو علاج کے لیے ہیلی کاپٹر سے رائے پور لے جایا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس علاقے میں ماؤنوازوں کے خلاف اس سال کی یہ سب سے بڑی کارروائی تھی۔ زخمی ہونے والے دو اہلکاروں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ اسی علاقے میں ماؤ نوازوں نے اپریل دو ہزار دس میں سی آر پی ایف کے ایک کیمپ پر حملہ کر کے پچھتر اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

چھتیس گڑھ ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں ماؤ نواز باغیوں کا سب سے زیادہ اثر ہے اور ان کے خلاف کارروائی میں سی آر پی ایف کے بیس ہزار جوان حِصّہ لے رہے ہیں۔

تقریباً ایک ماہ قبل باغیوں نے کلکٹر ایلکس پال مینن کو ا غوا کر لیا تھا اور انہیں حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد رہا کیا گیا تھا کہ ریاست میں باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں قید تمام افراد کے مقدمات پر ماہرین کی ایک کمیٹی نظر ثانی کرے گی۔

اسی بارے میں