کشمیر: گھروں کو گیسٹ ہاؤس بنانے کی اجازت

بھارتی سیاح کشمیر میں تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر آنے والے بہت سے سیاح مقامی لوگوں کے مکانوں میں ٹھہرتے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اس وقت سیاحتی سیزن عروج پر ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں یہاں آنے والے اکثر سیاحوں کو قیام کے لیے ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میسر نہیں ہیں۔

اس بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے پُرانے سرینگر کے باشندوں سے کہا ہے کہ اپنے گھروں کا کچھ حصہ عبوری طور گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کرلیں۔

محکمہ سیاحت کے سربراہ طلعت پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سکیم کے تحت باشندوں کو دو لاکھ روپے فی گھرانہ کے حساب سے معاوضہ دیا جا رہا ہے اور سیاحوں کے قیام سے ہونے والی آمدن پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔

خانیار علاقہ کے رہنے والے بلال احمد لٹھا ایسے کئی شہریوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس سکیم کا فائدہ اُٹھانے کے لیے اپنے ہی گھر کا کچھ حصہ سیاحوں کی قیام گاہ کے طور مخصوص کر دیا ہے۔

بلال کے والد چالیس سال سے ڈل جھیل میں شکارا چلا رہے تھے اور اس دوران انہوں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے تعلیمی اخراجات بھی پورے کیے۔

وہ کہتے ہیں: ’ایم اے کرنے کے باوجود مجھے نوکری نہیں ملی۔ مجھے لگا میں سیاحوں کا میزبان ہو سکتا ہوں۔ سرکار نے پیسہ دیا اور میں نے مکان ٹھیک کرا لیا۔ اب میں خوش ہوں اور کمائی بھی ہوتی ہے۔‘

بلال کی بہن روزی سیاحوں کی سنگت سے زیادہ خوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ہمارے یہاں نئی دلّی کا ایک کنبہ رُکا ہے۔ وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ ہمارا وقت بھی کٹتا ہے۔‘

جنوبی دلّی کے رہنے والے رجت گپتا اپنی بیوی بچوں اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ یہاں کئی روز سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ’ہوٹل میں مالک اور خریدار کا رشتہ ہے، یہاں ایک انسانی رشتہ ہے۔ ہم خوش ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران کشمیر میں بیس ہزار غیر ملکیوں سمیت چھ لاکھ سیاح کشمیر آئے، جو کہ پچھلے بائیس برس میں ایک ریکارڈ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں ایک مخصوص وقت میں صرف پچاس ہزار بستروں کا انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھاری تعداد میں سیاحوں کی آمد کی وجہ سے حکومت نے شہریوں کو اپنے گھروں کا کچھ حصہ سیاحت کے لیے وقف کرنے کو کہا ہے۔

محکمہ سیاحت کے سربراہ طلعت پرویز مزید کہتے ہیں: ’سرینگر چونکہ دستکاریوں کا مرکز ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ سیاحوں کو قیام گاہ بھی ملے گی اور دستکاروں کو ایک بنی بنائی مارکیٹ بھی۔‘'

واضح رہے کہ تین سال کی مسلسل احتجاجی تحریک کے بعد کشمیر میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ پچھلے سال بحال ہوگیا۔ مقامی حکومت نے یورپ، امریکہ اور عرب ممالک میں سیاحوں کو کشمیر مدعو کرنے کے لیے مہم چلائی جس پر پانچ کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

اُنیس سو نواسی میں جب کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوئی تو مغربی ممالک نے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ کشمیر نہ جائیں۔ اس پابندی کو ہٹوانے کے لیے کشمیر کے حکام اکثر یورپی ممالک کا دورہ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں