بھارت:مون سون کو سمجھنے کا منصوبہ

مون سون تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں مون سون کی پیشن گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں

بھارت میں مون سون کا نظام بارشوں کا اصل ذریعہ ہے لیکن اس کے بارے میں پیشن گوئی اکثر غلط ثابت ہوتی ہے۔

حکومت نے اب مون سون کے نظام کو اچھی طرح سمجھنے اور بارش کی صحیح پیشن گوئی کے لیے ایک وسیع سائنسی مطالعے کا آغاز کیا ہے۔

اس مطالعے پر چار ارب سولہ کروڑ روپے خرچ ہونگے۔

بھارت میں سالانہ بارش کا اسّی فیصد پانی جون سے ستمبر کے درمیان مون سون کے چار مہینوں میں ہی برستا ہے۔

بارش میں کمی سے خشک سالی کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جس کے برے اثرات تیئس کروڑ سے زیادہ کسانوں کو برداشت کرنا پڑتے ہیں اور اس کا اثر ملک کی مجموعی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

بھارت میں ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے کم ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔

بھارت میں ارتھ سائنس کی وزارت کے ایک عہدیدار شیلیش نایک نے بتایا کہ’ آئندہ پانچ برسوں کے دوران مون سون کو سمجھنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس مشن کے تحت امریکہ اور برطانیہ میں تیارشدہ کمپیوٹرز ماڈلز کے استعمال اور تازہ ترین معلومات کی بنیاد پر بارش کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔

بھارت میں موسمی حالات کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مون سون کی پیشن گوئی کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔

گذشتہ سال انہوں نے خراب مون سون کی پیشن گوئی کی تھی لیکن بعد میں بارش امید سے کہیں زیادہ ہوئی۔

محکمہ موسمیات نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی پیشن گوئی صحیح نہیں تھی۔

ایک سو سینتیس سالہ تاریخ میں بھارت کا محکمہ موسمیات کبھی بھی خشک سالی یا بارش کی صحیح پیشن گوئی نہیں کر پایا ہے حالانکہ ہر سال یہ ادارہ مون سون کے نظام پر اپنے جائزے جاری کرتا رہتا ہے۔

حالانکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسم کو سمجھنا دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔

مون سون پر نظر رکھنے والے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے پروفیسر جے شری نیواس کا کہنا ہے کہ افریقہ کے ریگستانی خطے میں ہی خشک سالی اور سیلاب کی پیشن گوئی درست ثابت ہوتی ہے لیکن دنیا کا کوئی بھی ادارہ بھارتی علاقوں کے لیے اب تک خشک سالی یا سیلاب کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں رہا ہے۔

اسی بارے میں