پاکستانی خارجہ سیکرٹری بھارت کے دورہ پر

آخری وقت اشاعت:  منگل 3 جولائ 2012 ,‭ 11:18 GMT 16:18 PST

پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت کی توقع ہے

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اپنے بھارتی ہم منصب رنجن متھائی سے دو طرفہ معاملات پر بات چيت کے لیے منگل کو دلی پہنچے ہیں۔

بھارتی حکام سے بات جیت سے پہلے وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علحیدگي پسند رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

دلی پہنچنے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں مسٹر جیلانی نے کہا '' ہم اپنے دوست اور ساتھی رنجن متھائی سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ اس میٹنگ میں امن و سلامتی، مسئلہ جموں و کشمیر اور دوستانہ ایکسچینجز جیسے مسائل پر ہم مثبت اور تعمیرانہ بات چيت کریں گے۔''

مسٹر جیلانی کی آمد سے قبل ہی دلی میں پاکستانی سفارتخانے کشمیر کے حریت رہنماؤں کو بات چيت کے لیے دلی طلب کیا تھا۔

حریت رہنما سید علی شاہ گيلانی، میر واعظ عمر فاروق اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک جیسے کشمیری رہنماء دلی میں پاکستان کے خارجہ سیکرٹری سے بات چیت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

"ہم اپنے دوست اور ساتھی رنجن متھائی سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ اس میٹنگ میں امن و سلامتی، مسئلہ جموں و کشمیر اور دوستانہ ایکسچینجز جیسے مسائل پر ہم مثبت اور تعمیرانہ بات چيت کریں گے۔"

جیلیل عباس جیلانی

اطلاعات کے مطابق جموں کشمیر جیسے مسئلے پر بھارتی حکام سے بات چيت سے پہلے کشمیری رہنماؤں سے ان کی بات چيت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

پاکستان سے جب بھی کوئی بڑی شخصیت بھارت کا دورہ کرتی ہے تو کشمیری رہنماء ان سے بات چیت کے لیے دلی میں ملاقات کرتے ہیں جسے بھارتی حکام اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

پیر کو بھارت کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بدھ کے روز دلی میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ مسٹر جیلانی سے بات چیت کی توقع ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب حال ہی میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک مشتبہ شخص ذبیح الدین عرف ابو جندل کو سعودی عرب کی حکومت نے بھارت کے سپرد کیا ہے اور بھارتی حکام پاکستان کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔

اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر جیلانی نے کہا ’یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اگر پاکستان کے ساتھ تفصیلات شیئر کی گیں تو وہ اس بارے میں ہر طرح کا تعاون کریگا۔‘

دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملوں کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ مذاکرات معطل ہوگئے تھے جنہیں گزشتہ برس دوبارہ بحال کیا گيا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔