کرنل پروہت کی ڈور کس کے ہاتھ میں تھی؟

مالیگاؤں دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالیگاؤں دھماکہ کے سلسلے میں کرنل پروہت سمیت کئی افراد جیل میں ہیں

ہندوستان میں ہندو شدت پسند تنظیم ابھیون بھارت سے وابستگی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل شریکانت پرساد پروہت سے پوچھ گچھ اور ان کے خلاف فوج کی انکوائری کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس پورے قضیے سے کیا فوج کا باضابطہ طور پر کوئی تعلق تھا؟

یہ سوال حیرت انگیز ہے کیونکہ اب تک یہ تاثر تھا کہ کرنل پروہت ’ابھیون بھارت‘ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اس تنظیم کو مالیگاؤں، حیدرآباد کی مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس اور درگاہ اجمیر شریف پر حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیکن خود کرنل پروہت کا دعوی ہے کہ وہ ملٹری انٹیلیجنس کے لیے کام کر رہے تھے اور فوج کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ابھینو بھارت میں شامل ہوئے تھے تاکہ ملک میں ہندو شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جا سکے اور یہ کہ ان کے اعلی افسران تمام تفصیلات سے آگاہ تھے۔

فوج ان کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔ کرنل پروہت چار سال سے جیل میں ہیں۔ انہوں نےگزشتہ برس نومبر میں آخری مرتبہ ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔ عدالت کا موقف تھا کہ نہ صرف کرنل پروہت نے ہندو راشٹر قائم کرنے کی بات کی تھی بلکہ ان پر دھماکوں کے لیے آر ڈی ایکس مہیا کرانے کا بھی الزام ہے۔

فوج نے کرنل پروہت کے خلاف کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا تھا جس نے حال ہی میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے جو فوج کے ضابطوں کے مطابق عام نہیں کی جائے گی۔

لیکن اخبار ٹائمز آف انڈیا نے کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ اور اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ دعوی کیا ہے کہ کرنل پروہت نے ابھیون بھارت سے اپنی وابستگی کی تفصیلات باقاعدگی سے اپنے اعلی افسران کو بتائی تھیں اور ستمبر دو ہزار آٹھ میں جب مالیگاؤں میں بم دھماکے کیے گئے تھے تو انہوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا تھا کہ اس کیس میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور ابھیون بھارت کے دیگر ارکان ملوث ہو سکتے ہیں۔

مہارشٹر کے انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے بعد میں سادھوی پرگیا کو گرفتار کیا تھا اور وہ بھی فی الحال جیل میں ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا نے بنیادی طور پر دو اہم سوال اٹھائے ہیں۔ کیا کرنل پروہت ہندو شدت پسند تنظیموں پر نگاہ رکھنے کے لیے فوج کے منظورشدہ پراجیکٹ کا حصہ تھے؟ اور اگر نہیں تو کیا وہ ابھینو بھارت کو اسلامی شدت پسند تنظیموں کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی ممکنہ حکمت عملی کا حصہ تھے؟

اخبار کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہیں کہ کرنل پروہت نے اپنے اعلی افسران کو اپنی سرگرمیوں سے باخبر رکھا تھا، تو مہارشٹر اے ٹی اس کا یہ الزام غلط ثابت ہوگا کہ کرنل پروہت ہندؤں پر حملوں کا انتقام لینے کے لیے ابھینو بھارت کی تیارکردہ سازش کا حصہ تھے۔

اس پس منظر میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس کو ابھینو بھارت کے منصوبوں اور ان میں کرنل پروہت کے شامل ہونے کے بارے میں کتنی معلومات تھی؟ اور کیا انہوں نے یہ معلومات دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی فراہم کی تھی؟

اخبار کے مطابق ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کرنل پروہت یہ معلوم نہیں کر سکے تھے کہ ممکنہ حملے کب اور کہاں کیے جائیں گے یا انہوں نے اپنے اعلی افسران کو بتانےسے گریز کیا کیونکہ وہ خود بھی ابھینو بھارت کے نظریہ سے اتفاق کرتے تھے؟

انگریزی زبان کے جریدے آؤٹ لک نے بھی اپنے تازہ ترین شمارے میں کچھ سال اٹھائے ہیں۔ جریدے کا کہنا ہے کہ اگرکرنل پروہت صرف اپنے فرائض انجام دے رہے تھے تو فوج نے انہیں اتنی آسانی سے اے ٹی ایس کے سپرد کیسے کر دیا اور اس سے قبل اپنی انکوائری کیوں نہیں کی؟ اور اگر نہیں تو فوج نےانہیں برخاست کیوں نہیں کیا؟

اسی بارے میں