بھارت: زچگی کے دوران خواتین کی اموات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زچگی کے دوران خواتین کی اموات پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیےگئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پیدائش کے عمل یا زچگی کے دوران ہر دس منٹ میں ایک خاتون کی موت ہو جاتی ہے۔

بھارت میں اس وقت ایک لاکھ پیدائشوں پر ’میٹرنل مورٹیلٹی ریٹ ‘ یعنی زچگی کے دوران مرنے کی شرح دو سو بارہ ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کا ملینیئم گول بھی پورا نہیں کیا جا سکا۔

پیدائش کے عمل میں ہلاکتوں کا پیمانہ یہ ہے کہ دوران حمل خاتون کی موت ہو جائے یا پھر پیدائش کے بعد بیالیس دنوں کے اندر ماں چل بسے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں سنہ دو ہزار دس میں ستاون ہزار خواتین ہلاک ہوئیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ماں بننے کے عمل میں ہرگھنٹے میں چھ خواتین ہلاک ہوئیں اور اس طرح ہر دس منٹ میں ایک جان گئی۔

اقوام متحدہ نے ’ملینیئم ترقیاتی گولز‘ کے تحت ایک لاکھ پیدائش کے عمل میں اموات پر قابو پا کر ایک سو نو کرنے کا تخمینہ رکھا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا جا سکا۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے دلی میں اس سے متعلق تجزیہ کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے اور کہا ہے کہ پیدائش کے عمل میں ماؤں کی زندگي بچانے کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق فنڈز کے نمائندے فریڈریکا میجر کا کہنا تھا کہ بھارت نے میٹرنل مورٹیلٹی ریٹ ( ایم ایم آر) پر اچھی پیش رفت کی ہے اور اس سمت میں بہتری آئی ہے تاہم مزید اقدامات کرنے بھی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا ’سنہ دو ہزار دس کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر روز تقریباً ڈیڑھ سو خواتین ہلاک ہوتی ہیں۔‘

بھارت میں ایم ایم آر کی شرح اس سے پہلے کہیں زيادہ تھی تاہم اب اس میں کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے ایک لاکھ کی پیدائش پر چار سو سینتیس خواتین کی جان جاتی تھی جو اب نصف سے بھی کم ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پیدائش کے عمل میں سب سے زیادہ اموات افریقی ممالک میں ہوتی ہیں اور اس کے بعد جنوبی ایشیا کے علاقوں میں زیادہ اموات ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں