’ممبئی حملوں میں کسی سرکاری ایجنسی کا ہاتھ نہیں‘

رجن متھائی، عباس جیلانی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دو روزہ بات چیت میں ممبئی حملوں کے بارے میں بات چیت ہوئی

پاکستان نے ممبئی پر سن دو ہزار آٹھ کے حملوں کی مشترکہ تفتیش کی پیشکش دہرائی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اس حملے میں کسی سرکاری ادارے کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

اپنے بھارتی ہم منصب رنجن متھائی سے دلی میں دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر پاکستان کے خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے دلی میں کہا کہ حملوں کے سلسلے میں بھارت کو جو بھی معلومات حاصل ہوئی ہے’ وہ پاکستان کو بھی فراہم کی جانی چاہیے اور ہم اس کی تفتیش کریں گے۔ ہم پورے معاملے کی مشترکہ تفتیش کے لیے بھی تیار ہیں لیکن الزام تراشی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘

ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں ایک بھارتی شہری سید ذبیح الدین عرف ابو جندل کی گرفتاری کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان الزام تراشی کاسلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ سید ذبیح الدین ممبئی پر حملہ کرنے والوں کے ہینڈلر تھے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ حملے میں پاکستان کے کسی سرکاری ادارے کی مدد بھی شامل تھی۔

لیکن مسٹر جیلانی نے کہا کہ’ میں کسی بھی ایسے الزام کی سختی سے تردید کروں گا کہ کوئی پاکستانی ادارہ بھارت میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے۔‘

سید ذبیح الدین عرف ابو جندل کو سعودی عرب سے بھارت لایا گیا تھا جہاں انہیں دلی پولیس نےگرفتار کرلیا تھا۔ تفتیشی ادارے اب بھی ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

بھارتی خارجہ سیکرٹری نے کہا کہ ’میں نے اس بات پر زور دیا کہ ممبئی پر حملوں کے لیے ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ہی اعتماد کو فروغ دینے کی راہ میں سب سے بڑا قدم ہوگا۔‘

اس موقع پر جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ’ دونوں ملکوں کو اس بات کا احساس ہے کہ دہشتگردی سے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ دونوں ملکوں نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے موثر اور جامع انداز سے کارروائی کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔‘

بیان کے مطابق مذاکرات میں امن و سلامتی، اعتماد کو فروغ دینے کے اقدامات اور جموں و کشمیر کے مسئلہ پر غور کیاگیاہے اور اس سپورٹس اور میڈیا کے شعبوں میں راوبط کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا۔

لیکن بیان سے تاثر ملتا ہے کہ کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی۔’جموں و کشمیر کے مسئلے پر دونوں سیکرٹریوں کے درمیان جامع مذاکرات ہوئے جنہیں بامقصد اور معنی خیز انداز میں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔۔۔دونوں ملکوں نے لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت اور سفر کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔۔۔اس بات کو بھی نوٹ کیا گیا کہ ویزا کی شرائط آسان بنانے کے لیے معاہدے تیار ہے جس پر جلد سے جلد دستخط کیے جانے چاہیں۔۔۔اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ پراپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے۔

دونوں خارجہ سیکرٹری ستمبر میں وزراء خارجہ کی ملاقات سے قبل ایک مرتبہ پھر ملاقات کریں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو جولائی میں ہی اسلام آباد جانا تھا لیکن بھارت میں انیس جولائی کو صدارتی انتخاب ہونے کی وجہ سے یہ دورہ ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں