راہول گاندھی: ریپ کے الزامات بے بنیاد

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 7 جولائ 2012 ,‭ 10:25 GMT 15:25 PST
راہل گاندھی

بعض حلقوں میں راہول گاندھی کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جاتا ہے

کانگریس کے جنرل سیکرٹری اور رکنِ پارلیمنٹ راہول گاندھی نے بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک لڑکی اور اسے کے والدین کو غیر قانونی طور پر یرغمال بناکر رکھنے اور لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرایا ہے۔

راہول گاندھی نے کہا’خود پر لگائے گئے ریپ اور اغوا کے الزامات سے میں پوری طرح انکار کرتا ہوں۔ یہ دونوں الزامات پوری طرح غلط، گھٹیا، پریشان کن اور شہرت کو برباد کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔‘

حلف نامے میں کہا گیا ہے” اس طرح کے الزامات کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیۓ۔‘

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال چھ اپریل کو راہول گاندھی، اترپردیش حکومت اور چار دیگر افراد کو اس معاملے میں نوٹس جاری کیا تھا۔اسی کے جواب میں راہول گاندھی نے یہ حلف نامہ داخل کیا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش سے سماجوادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی کشور سمریتے نے راہول گاندھی پر یہ الزامات لگائے تھے۔

راہول گاندھی پر جنسی زیادتیوں کے الزامات لگانے کے سبب الہ آباد ہائی کورٹ نے سمریتے پر پچاس لاکھ کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ سمریتے نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے سابق رکن اسمبلی کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے جانچ کی سفارش بھی کی تھی جس پر عدالت کی ایک بنچ نے روک لگا دی تھی اور فریقین سے چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کے لیے کہا تھا۔

راہول گاندھی نے جسٹس ایچ ایل دتّو اور سی کے پرساد پر مشتمل بنچ کے سامنے دائر حلف نامے میں خود پر لگائے گئے الزمات کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔