گاندھی کے بارے میں خطوط کی نیلامی رک گئی

تصویر کے کاپی رائٹ g
Image caption گاندھی کے بہت کم خط دستاویزات کے اس مجموعے میں شامل ہیں

برطانوی نیلام گھر سودیبي نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مہاتما گاندھی سے وابستہ ہزاروں دستاویز اب منگل کو نیلامی کا حصہ نہیں ہوں گی۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے تاریخی اہمیت کے حامل خطوط اور تصاویر کے اس مجموعے کو خرید لیا ہے ۔

یہ خطوط اور تصاویر مہاتما گاندھی کے دوست یہودی آركیٹكٹ ہرمن كیلن باخ کے خاندان کے پاس تھیں۔

ہرمن جنوبی افریقہ میں گاندھی کے دوست بنے تھے اور ان دونوں کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

اب اطلاعات ہیں کہ بھارتی حکومت نے كیلن باخ کے خاندان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انہیں کتنی رقم دی گئی ہے۔

منتظمین کا اندازہ ہے کہ نیلامی میں اس مجموعے کی قیمت پانچ سے سات لاکھ پونڈ کے درمیان ہو سکتی تھی۔

بھارت میں یہ دستاویز محققین اور تاریخ دانوں کے لیے اہم معلومات کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ حال ہی میں بھارت کی وزارتِ ثقافت کے ماہرین کی ایک ٹیم نے ان کا جائزہ بھی لیا تھا۔

متنازعہ رشتہ

ان میں سے زیادہ تر خط خاندان، دوستوں اور دیگر لوگوں کے لکھے ہوئے ہیں اور خود گاندھی کے بہت کم خط اس میں شامل ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر خط گاندھی کے بیٹوں کے لکھے ہوئے ہیں، جن میں جنوبی افریقہ سے بھارت لوٹنے کے بعد ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں کی جھلک مل سکتی ہے۔

ان میں کئی ایسے خط بھی ہیں جن سے گاندھی اور ان کے دوست كیلن باخ کے متنازعہ تعلقات کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان دونوں کی ملاقات 1904 میں جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی اور گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک کتاب میں ان کے رشتے کا ذکر ہونے پر کافی تنازع کھڑا ہوا جس کے بعد گجرات میں اس کتاب پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پلٹزر انعام جیتنے والے امریکی صحافی اور مصنف جوزف لیلي ولڈ نے اپنی کتاب میں گاندھی اور كیلن باخ کے رشتے کو بہت قریبی بتایا تھا۔ تاہم وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے گاندھی کو نسل پرست یا مردوزن دونوں سے جنسی تعلق کا میلان رکھنے والا شخص کہا ہے۔

اسی بارے میں