بالی وڈ کے رنگ برنگے رقص

بالی وڈ ڈانس جرمنی میں
Image caption بھارتی رقص اب مغربی ممالک میں بھی مقبول ہورہا ہے

بالی وڈ فلموں کے رقص سے کون واقف نہیں جو تفریح کا اہم ذریعہ ہے۔ بھارتی رقصوں کی یہ جھلکیاں اب مغربی ممالک کے ٹیلی ویژن اور سنیما سکرین پر بھی عام ہوچکی ہیں۔

بالی وڈ کا ڈانس دیکھنے اور سمجھنے میں آسان ہے۔ چہرے پر ڈرامائی تاثرات کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ناظر، چاہے وہ رقص کو اچھی طرح سے نہ جانتا ہو، کہانی کو سمجھ جائےگا۔

لیکن رقصوں کی ان کامیاب سٹائلز کے پیچھے مختلف طرح کی تاریخی علامات اور روایت کارفرماں ہیں جو بھارت کے مختلف روایتی رقصوں میں نمایاں ہیں۔

کلاسیکل ڈانس جیسے بھرت ناٹیم، کتھک اور بھنگڑا جیسے فوک ڈانس کے اپنے اپنے سٹائلز ہیں۔ لیکن بالی وڈ کی فلموں کے لیے جدید طرز کے رقص کی تخلیق کے لیے انہیں روایتی یا فوک طرز کے رقصوں کے اشاروں یا معنی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ان ڈانسز میں ہاتھوں کے اشاروں کو کہانی کے اظہار یا پھر موسم، مویشی اور مقامات کے بارے بتانے کے لیے بطور زبان استعمال کیا جاتا ہے۔

بھرت ناٹیم میں ہاتھ کے ان اشاروں کو ہستاس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آسامیکتا ہستاس ایک ہاتھ سے کیے جاتے ہیں جبکہ سمایکتا اشارے دونوں ہاتھ سے کیے جاتے ہیں۔

مدراز ہاتھ ہی سے کی جانے والی دوسری حرکات ہیں جو مختلف بھارتی کلاسیکل ڈانسوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ کل مدراز کی تعداد ایک سو آٹھ ہے اور ایک کامیاب رقاصہ کو ان سب کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

لندن میں مقیم ڈانسر اور کورئیوگرافر ہنی کلریا کہتے ہیں ’اگر آپ بالی وڈ کے ڈانسر بننا چاہتے ہیں تو یہ مدرائیں بہت اہم ہیں اور آپ کو بنیادی چیزیں جاننا بہت ضروری ہے۔ یہ بہت روایتی ہیں اور اگر آپ کوئي کہانی بتانا چاہتے ہیں تو پھر وہ بہت مدد گار ثابت ہوں گي۔‘

بھارتی رقص میں سر اور گردن کی حرکات کی بڑی اہمیت ہے۔ سائیڈ کے دونوں طرف، آگے کی جانب اور پیچے گردن کی حرکتوں کو پجن ہیڈ یعنی کبوتر کے سر کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ گردن کی حرکات و سکنات رقص کے جمالیات کا اہم پہلو ہیں لیکن اس سے رقص میں فلوڈٹی کا عنصر بھی پیدا ہوتا ہے۔

ممبئی کی معروف رقاصہ اور کورئیوگرافو شکتی موہن کے رقص میں گردن کی کی حرکات و سکنات بہت نمایاں ہیں۔

لندن میں بالی ڈانس سکھانی والی انجلی مہتا کہتی ہیں کہ ’گردن کی حرکت رقص کا بہت اہم حصہ ہے۔ یہ بہت خوبصورت دکھتا ہے اور ناظرین سے زیادہ ڈانسر کے لیے مدد گار ثابت ہوتا ہے اور ان کے تاثرات کے اظہار میں معاون ہوتا ہے۔ اگر آپ گردن کی حرکت کرنے میں اچھے ہیں تو جذبات کے اظہار کے قابل ہوں گے اور چہرے پر گہرے تاثرات لانے کے لائق ہوں گے۔''

چہرے کے تاثرات بھی رقص کا اہم جز ہیں۔ کلاسیکل بھارتی رقص کی بنیاد دو اہم عنصر پر ابھینیا ( اظہار) نرتیا ( خالص رقص) پر مبنی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PR
Image caption معرف ادا کارہ ریکھا بالی وڈ فلموں میں اپنے رقص کے لیے بہت مقبول تھیں

نرتیا کا اظہار ردھم یعنی تال اور جسمانی حرکات سے موسیقی کی لیے پر ہوتا ہے۔ اسے خالص رقص کا نام دیا گيا ہے۔

ابھینیا کی جڑیں اظہار اور جذبات آمیزی سے ملتی ہیں جس کا مقصد رقص میں پیچھے سے کہانی میں جان ڈالنا ہے۔ اس میں چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی حرکات بہت اہم ہوتی ہیں۔ بھارتی رقص میں کہانی بتانے پر زور ہوتا ہے اور اظہار کا عنصر اس میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔

انجلی مہتا کہتی ہیں ’چہرے پر اظہار کو دکھانے کے لیے بھی کچھ خاص ایکسپریشنز ہیں، جیسے غصہ، غم، خوشی اور پیار۔ یہ بنیادی طور پر آنکھوں اور پلکوں سے جھلکنا چاہیے۔‘

رقص میں قدموں کی حرکات بھی بہت اہم ہیں اور اگر کوئي ڈانسر فلیٹ لچکدار قدم استعمال کرے تو اسے بہت ہی کلاسیکل رقص کا عنصر سمجھا جاتا ہے جو فوک طرز اور بھرت ناٹیم کے رقص کا اہم عنصر ہے۔

شکتی موہن کہتی ہیں ’بھرت ناٹیم کا بنیادی پوسچر (بھاؤ) اس بات میں کہ آپ اپنا پیر کیسے موڑتے ہیں۔ اس میں بازور پیچھے کے جانب انگلیاں کیے ہوئے کمر پر ہوتے ہیں۔ بھرت ناٹیم میں آپ کو پیر زمین پر زور سے پٹکنا ہوتا ہے۔ اور جب آپ ایسا کرتے ہیں تو قدم کو اپنی سرین تک اٹھا کر پھر زور سے مارنا ہوتا ہے۔ یہ بنیادی اصول ہیں جو میں بچپن میں ہی سیکھے تھے۔

بھارتی رقص میں کاسٹیومس بھی بڑا اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ٹخنے کے گرد گھنگھرو ڈانسر کی مہارات کی عکاسی کرتے ہی کہ آخر وہ موسیقی کے ساتھ تال میل کیسے کرتا ہے۔ کتھک کے ڈانسر کو کو تقریباً سو گھنگھرو پہننے ہوتے ہیں۔

روایتی زیورات کا بھی بہت استعمال کیا جاتا ہے۔ مہتا کہتی ہیں ’ہیڈ پیس کے تحت بائیں جانب چاند اور دائیں جانب سورج کا جھومر ہونا ضروری ہے۔ روایتی ڈانس کا تعلق دیوی دیوتاؤں اور ان کے عقیدت مندوں سے ہے اور چاند سورج اسی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

نٹراج کا مطلب رقص کا دیوتا ہے اور اس کے لیے جو معروف مجسمہ ہے اس میں بھگوان شوا کو بطور رقص کا دیوتا دکھایا گيا ہے۔ بھارتی رقص کے بیشتر بھاؤ یا طرز اسی شبیہ سے لیے گئے۔ بالی وڈ کے رقص میں بھی کلاسیکل ڈانس کی طرح اس مجسمہ کی خصوصیات کا اظہار ہوتا ہے۔

اسی بارے میں