وارڈ بوائے، صفائی ملازم ڈاکٹر کی ڈیوٹی پر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ ہوتی ہے

بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش میں حکومت نے ان الزامات کی انکوائری کا حکم دیا ہے کہ ایک سرکاری ہسپتال میں ایک وارڈ بوائے اور صفائی کی ذمہ داری پر مامور اہلکار مریضوں کو ٹانکے اور انجکشن لگانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

یہ واقعہ بلند شہر کا ہے جہاں ایک مقامی صحافی نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں ایک وارڈ بوائے کو ایک بچے کی ٹانگ میں ٹانکے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی ویڈیو میں ایک صفائی اہلکار ایک مریض کو انجکشن لگاتے ہوئے نظر آتا ہے۔

اس ہسپتال میں تئیس ڈاکٹر ہیں لیکن ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اچانک بہت سے مریض آجانے کی وجہ سے وہ سب مصروف تھے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا وارڈ بوائے تربیت یافتہ ہے اور معمول کے طور آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی مدد کرتا ہے۔

بلند شہر کے چیف میڈیکل آفیسر ششر کمار نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا ’ویڈیو میں نظر آنے والا شخص صفائی اہلکار نہیں ایک وارڈ بوائے ہے جو تقریباً دس سال سے آپریشن تھیٹر میں کام کرتا ہے۔ وہ میری نگرانی میں کام کر رہا تھا، میرے علاوہ دوسرے ڈاکٹر بھی وہاں موجود تھے لیکن انہیں ویڈیو میں نہیں دکھایا گیا ہے۔ کبھی کبھی جب زیادہ بھیڑ ہوتی ہے تو دوائی دینے میں ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہیں۔‘

لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر واقعے کے وقت ڈاکٹر بھی موجود تھے تو ٹانکے لگانے کا کام وارڈ بوائے کیوں کر رہا تھا۔

ماہرین کے مطابق صرف ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر ہی ٹانکے لگانے کا اہل ہوتا ہے جبکہ انجکشن دینے کے لیے نرسنگ کی تربیت لازمی ہے۔

ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی نے واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

ریاست کے وزیر صحت احمد حسن کے مطابق ایک حادثے کے بعد بڑی تعداد میں مریض ہسپتال لائے گئے تھے۔

’مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ آپریشن تھیٹر کے اٹنڈنٹ تھے جو ڈاکٹروں کی مدد کر رہے تھے۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو ہم کارروائی کریں گے۔‘

بھارت میں ایسے واقعات غیرمعمولی نہیں ہیں۔ تین سال پہلے ریاست مدھیہ پردیش کے ایک ہسپتال میں ایک صفائی اہلکار نے مبینہ طور پر ایک بچی کے گلے پر جراحی کی تھی۔

یہ خبر آنے کے بعد ڈاکٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس شخص سے مریض کو صرف سرجری کے لیے تیار کرنے کے لیے کہا تھا ’ لیکن جب تک میں پہنچا تو مریض جا چکا تھا۔’

اسی بارے میں