’کسی کا مذاق یا ملامت کرنا مقصد نہیں‘

پی چدامبرم تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر سخت نکتہ چینی ہورہی ہے

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے مہنگائی پر متوسط طبقے سے متعلق اپنے ایک بیان کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا یا ملامت کرنا نہیں تھا۔

وزیر داخلہ چدامبرم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی بعض رپورٹ دیکھ کر سکتے میں ہیں اور اس سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ روز’بنگلور میں پریس کانفرنس کے دوران متعلقہ سوال و جواب کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ دس جولائي کو بنگلور میں صحافیوں سے بات چيت کے دوران مہنگائی سے متعلق بات ہوئي اور ایک اخبار کے مطابق وزیرِ داخلہ پی چدامبرم چدامبرم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’متوسط طبقہ ایک بوتل پانی کے لیے پندرہ روپے اور ایک آئس کریم کے لیے بیس روپے خرچ کر سکتا ہے تو پھر وہ مہنگائی کے خلاف اتنا شور کیوں مچاتا ہے۔‘

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے ان الفاظ کہ’وہ قیمتوں میں اضافے کے خلاف شور کیوں مچاتے ہیں‘ کا استعمال نہیں کیا تھا۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے تھے’ہم پانی کی ایک بوتل کے لیے پندرہ روپے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ایک کلو چاول اور اناج پر اضافی ایک روپیہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہم ایک آئس کریم پر بیس روپے خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اناج اور چاول کے لیے ایک روپیہ اضافی نہیں ادا کریں گے۔‘

ان کے بیان کے مطابق’وزیر داخلہ نے بیان کے طور پر حقیقت کو پیش کیا اور کسی کا مذاق اڑایا اور نا ہی کسی کی ملامت کی۔اگر کوئی بھی وہ انٹرویو دیکھے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقائق کو کس طرح پیش کیا گيا۔‘

ان کی طرف سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بات غذائي اشیاء کی قیمتوں کی ہو رہی تھی تو انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کسانوں کی پیداوار پر حکومت زیادہ رقم فراہم کرتی ہے اس سے لاکھوں کاشتکار فائدہ اٹھاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے چاول دال کی بھی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسٹر چدامبرم کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کے بیان سے عوام کی بے عزتی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں