ہندوستانی سے انگریزی میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ ڈکشنری اپنی اشاعت کے بعد سے اب تک لوگوں کو راغب کرتی ہے

سنہ اٹھارہ سو بہتر میں دو افراد نے ایشیا کے ان الفاظ کی ڈکشنری مرتب کرنا شروع کی جو برطانوی دور حکومت کے دوران ہندوستان میں بولے جاتے تھے۔

اس وقت سے لے کر ابتک ایک ہزار صفحات پر مشتمل یہ لغت ہمیشہ اشاعت میں رہی ہے اور اس کا نیا اڈیشن آئندہ سال شائع ہو رہا ہے۔

اس لغت کا عنوان ہوبسن۔جوبسن بہت پرتجسس ہے۔

سب ٹائٹل میں مزید تفصیل دی گئی ہے کہ ’اینگلو انڈین بول چال کے الفاظ اور جملوں کی فرہنگ، اشتقاقی، تاریخی، جغرافیائی اور دلیل و حجت پر مبنی اصلاحات۔ اس کو مرتب کرنے والوں میں کرنل ہنری یول اور اے سی برنل کے نام دیے گئے ہیں۔

ایک شاعر دلجیت ناگرا کے مطابق یہ ایک پاگل پن کی حد تک بے لگام اور انوکھا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ’برطانوی دورِ حکومت کی تند مزاج یاد داشتوں کے طور پر یہ ترتیب وار ڈکشنری نہیں ہے اور اس کی بجائے مرکز سے ہٹا ہوا ایک گورا شخص ڈکشنری کی شکل میں ہے۔‘

اس ڈکشنری میں ہندوستانی لفظ ڈیم شامل ہے اور اس میں دیے گئے معنی کے مطابق’اصل میں کانسی کا سکہ ہے، اور عام فہم میں اس کو دمڑی کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ سکے میں سب سے چھوٹا ہے اور اکثر آپ نے ہندوستان میں کسی گورے کو یہ کہتے سنا گیا ہو گا کہ ’نہیں میں ایک دمڑی نہیں دوں گا لیکن اس کے ساتھ دمڑی کی تفصیلات کے بارے میں مبہم معلومات دی گئی ہیں۔‘

روہمپٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیٹ ٹلٹشر کے مطابق ڈکشنری میں استعمال کی گئی زبان بہت پر لطف ہے اور یہ لطف ساری ڈکشنری میں برقرار رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس ڈکشنری میں خوراک کے حوالے سے بھی کافی باتیں بتائی گئی ہیں

ان کا کہنا ہے ’ زبان کے اثر کے مشاہدے کے حوالے سے یہ ایک بہت مشاق کوشش ہے اور اس میں الفاظ کو ان کے سیاق و سباق سے دیکھا گیا کہ یہ کس طرح زندگی کے ایک بھولے ہوئے راستے کی عکاسی کرتے ہیں۔

جس وقت اس ڈکشنری کو شائع کیا گیا تھا تو اس وقت بھی یہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی یادوں کا ایک ذریعہ تھی۔

ڈاکٹر ٹلٹشر کے مطابق’ہندوستان میں تعینات برطانوی شہری اس کی مانگ کرتے تھے اور ایک تبصرے میں کہا گیا تھا کہ اسے رات کے کھانے کے بعد کیمپ میں ضروری پڑھا جائے۔‘

اس میں انتظامی اعتبار سے کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن ایسی بہت ساری چیزیں تھیں جن کی برطانیہ کو جاننے کی ضرورت تھی، لیکن اس میں واضح طور پر رویہ بدلنے اور تفریح کا واضح عنصر تھا اور یہ ان برطانوی لوگوں کے لیے تھی جو ہندوستان میں تعینات تھے اور جب وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹتے تھے۔

اس ڈکشنری میں خوراک کے حوالے سے بھی کافی باتیں بتائی گئی ہیں۔

جیسا کہ کھچڑی ہے۔ یہ چاول کو دال اور مکھن کے ساتھ پکا کر بنائی جاتی ہے اور اس کو تھوڑے سے مصالحے اور پیاز کے ٹکڑوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ایک عام کھانا یا ڈش ہے اور وہاں تعنیات برطانوی شہریوں کو اکثر ناشتے میں پیش کی جاتی تھی۔ اب اگر برطانیہ میں دیکھا جائے تو لفظ کھچڑی اکثر مچھلی کو دوبارہ تلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ناشتے میں پیش کی جاتی ہے لیکن یہ استعمال درست نہیں ہے۔

مچھلی اکثر اوقات کھچڑی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے لیکن یہ کھچڑی کا حصہ نہیں ہے۔

اسی طرح چلی یا مرچ۔ اس کے بارے میں ہم نے جانا کہ ’سرخ مرچ کی پھلی کا یہ ایک مشہور اینگلو انڈین نام ہے۔‘

’ اس بارے میں تھوڑا سا شبہ ہے کہ کیا اس کا نام واقعی لاطینی امریکہ کے ملک چلی سے لیا گیا ہے اور وہاں سے یہ بھارتی جزائر میں پہنچا اور پھر بعد میں بھارت۔‘

دلجیت ناگرا کا کہتے ہیں کہ ’اب یہ کسے نہیں معلوم ہو گا کہ لفظ چلی کا مطلب کیا ہے۔‘

’لیکن اس لفظ کو پہلی بار مغربی ڈکشنری میں استعمال کیا گیا اور اس لفظ کی پیدائش کا شاہد بننے پر مجھے بہت خوشی ہے۔‘

ناگرا جیسے لکھاریوں کے لیے لفظ ہوبسن ۔جوبسن کافی متاثر کن ہو گا۔

یہاں پر بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے ہوبسن۔جوبسن نوکر چاکر کی وضاحت کرتی ہے۔ نوکر چاکر کا مطلب ہے نوکر۔

لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ہوبسن۔جابسن میں ملتے جلتے الفاظ بتائے گئے ہیں جیسے ’ہوگر موگر، ٹپ ٹاپ، ٹٹ فار ٹیٹ، رولی پولی، سلپ سلوپ۔ یہ الفاظ گوروں سے زیادہ ایشیائی لوگوں کو پسند تھے۔‘

اسی طرح سے ہی لفظ ہوبسن۔جوبسن تخلیق ہوا ہے۔

ناگرا کہتے ہیں کہ میں ڈکشنری میں اس طرح کے صوتی طور پر ملتے جلتے الفاظ سے کافی متاثر ہوا ہوں۔

’میرے دوست میجر جان ٹروٹر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے برطانوی فوج میں پنجابی اہلکاروں سے اکثر ایسے جملے سنے ہیں۔ اصل میں محرم کے دوران نواسہ رسول کے غم میں ماتم کے دوران یا حسن یا حیسن پکارنے کا یہ اینگلو سیکسن ورژن ہے۔‘

اسی طرح الفاظ جیسے شیمپو، چٹنی، پجامہ، گورو، جمخانہ، جودھپور، جگرناتھ، خاکی، پشمینہ بھی ہندوستان سے انگریزی زبان میں۔

اسی بارے میں